طالبان کا امریکی قافلے پر حملہ، کم از کم ایک فوجی ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 23.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

طالبان کا امریکی قافلے پر حملہ، کم از کم ایک فوجی ہلاک

طالبان نے افغان صوبے قندوز میں ایک امریکی قافلے پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس میں ایک امریکی فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔ اس حملے میں متعدد امریکی اور افغان فوجیوں کے شدید زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

طالبان کے ایک ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بھیجے گئے ایک پیغام میں بتایا ہے کہ 'امریکی قافلے‘ کو قندوز کے علاقے چار درہ میں نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان نے دعوی کيا ہے کہ اس حملے میں متعدد فوجی زخمی بھی ہوئے۔ دوسری جانب امریکی فوج کی جانب سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک آپریشن کے دوران ان کا ایک اہلکار مارا گیا ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ دریں اثناء اس ہلاکت کے ساتھ ہی رواں برس افغانستان میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد کم از کم بیس ہو گئی ہے۔ سن دو ہزار چودہ کے بعد رواں برس امریکی فوجیوں کے لیے سب سے ہلاکت خیز ثابت ہوا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس حملے کے افغانستان اور امریکا کے درمیان جاری امن مذاکرات پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ قبل ازیں ایسے ہی پرتشدد حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امن مذاکرات کا سلسلہ يکطرفہ طور پر منقطع کر دیا تھا۔ حال ہی میں دوبارہ شروع ہونے والے امن مذاکرات میں امریکی فوجیوں کے انخلا کی شرائط پر گفتگو جاری ہے۔

امریکا نے نائن الیون حملوں کے بعد دہشت گرد نيٹ ورک القاعدہ کو ختم کرنے کے لیے اپنے فوجی افغانستان میں اتارے تھے اور اس کے بعد سے چوبیس سو سے زائد امریکی فوجی افغان سرزمین پر ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ سرکاری اعداد و شمار ہیں جبکہ ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

اس وقت افغانستان میں بارہ ہزار سے تیرہ ہزار کے درمیان امریکی فوجی موجود ہیں اور امریکی صدر آئندہ برس ان میں سے زیادہ تر کو امریکا واپس لانا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا ان فوجیوں کی واپسی سے قبل طالبان کے ساتھ کوئی امن معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

ا ا / ع س ( اے ایف پی، روئٹرز)