طالبان کابل کے قریب، صدر اشرف غنی کا قوم سے خطاب | حالات حاضرہ | DW | 14.08.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

طالبان کابل کے قریب، صدر اشرف غنی کا قوم سے خطاب

طالبان دارالحکومت کابل کے قریب پہنچ چکے ہیں اور ان جنگجوؤں نے آج پاکستانی سرحد سے ملحق صوبہ پکتیکا کے دارالحکومت پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ دوسری جانب افغان صدر نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنی حکمت عملی وضع کی ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر وہ مقامی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی پارٹنرز کے ساتھ ہنگامی بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اشرف غنی کا ٹیلی وژن پر مختصر خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا، ''آپ کے صدر کی حیثیت سے میری توجہ مزید عدم استحکام، تشدد اور میرے لوگوں کی نقل مکانی روکنے پر ہے۔''

تاہم افغان صدر نے طالبان کے اس مطالبے کا جواب نہیں دیا کہ جنگ بندی اور سیاسی تصفیہ پر کسی بھی مذاکرات کے لیے انہیں استعفیٰ دینا ہو گا۔ قبل ازیں ایسی افواہیں گردش میں تھیں کہ اشرف غنی مستعفی ہونے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا، ''سکیورٹی اور دفاعی افواج کا دوبارہ انضمام ہماری ترجیح ہے اور اس سلسلے میں سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔''

طالبان کا مزید شہروں پر قبضہ

ان کا اپنی عوام سے خطاب اس وقت نشر کیا گیا ، جب طالبان نے صوبہ لُوگر کے دارالحکومت پُلِ عَلَم پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ شہر دارالحکومت کابل سے تقریبا ستر کلومیٹر کی دوری پر ہے اور اس جنوبی شہر کو کابل کے لیے ایک گیٹ وے بھی قرار دیا جاتا ہے۔

صوبائی کونسل کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ طالبان کو پلِ عَلَم میں کسی بڑی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ پل عَلَم انتہائی اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل ہے اور اس پر قبضہ کرتے ہوئے کابل پر آسانی سے حملہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب گزشتہ روز ہی طالبان نے ملک کے دوسرے اور تیسرے بڑے شہروں پر قبضہ کیا تھا۔ نیوز ایجنسی اے پی کی ہی اطلاعات کے مطابق طالبان دارالحکومت سے گیارہ کلومیٹر دور ایک مقام پر بھی ملکی سکیورٹی فورسز سے لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔  

Infografik Wer kontrolliert Afghanistan EN

دریں اثناء مشرقی صوبے پکتیکا کے قانون ساز خالد اسد نے نیوز ایجنسی اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہفتے کو طالبان نے پکتیکا کے دارالحکومت شرنہ پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ یہ صوبہ پاکستان کی سرحد سے ملحق ہے۔

مغربی ممالک کے سفارتی عملے کا انخلاء

افغان صدر اشرف غنی نے ایک ایسے وقت میں مختصر خطاب کیا ہے، جب امریکا اور دیگر مغربی ممالک نے کابل سے اپنا سفارتی عملہ نکالنے کا عمل تیز تر کر دیا ہے۔ امریکا نے اپنے سفارتی عملے کی حفاظت کے لیے تقریبا تین ہزار اہلکار کابل بھیجے ہیں۔ اسی طرح فرانس اور برطانیہ نے بھی فوجی روانہ کر دیے ہیں تاکہ کابل کو جلد از جلد طالبان کے ہاتھوں میں جانے سے بچایا جا سکے اور سفارت کاروں کو بحفاظت باہر نکالا جا سکے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق متعدد سفارت خانوں نے انخلاء سے پہلے حساس معلومات پر مبنی مواد جلانا شروع کر دیا ہے۔ نیوز ایجنسی روئٹرز نے امریکی سفارت خانے کا ایک ایسا حکم نامہ بھی دیکھا ہے، جس میں الیکڑک ڈیوائسز سمیت تمام حساس مواد جلانے کا کہا گیا ہے تاکہ سفارت خانے میں حساس مواد کی تعداد کم کی جا سکے۔

ا ا /ع ح (روئٹرز، اے پی، ڈی پی اے)