’طالبان قیدیوں کا تبادلہ اہم قدم ہے‘: امریکا | حالات حاضرہ | DW | 14.04.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’طالبان قیدیوں کا تبادلہ اہم قدم ہے‘: امریکا

افغانستان کے لیے خصوصی امریکی سفیرزلمے خلیل زاد نے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کے پہلے تبادلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امن کی راہ ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

طالبان کے ساتھ امن معاہدے میں اہم رول ادا کرنے والے زلمے خلیل زاد نے کہا کہ امن کی راہ میں یہ ایک اہم قدم توہے ہی لیکن کورونا وائرس کی وبا کے خطرات کے پیش نظر یہ بہت ضروری تھا۔

زلمے خلیل زاد نے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان فوجیوں کا تبادلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنے رد عمل میں کہا، ’’افغان حکومت اور طالبان کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کا میں خیر مقدم کرتا ہوں۔ قیدیوں کی رہائی امن کے عمل کے لیے ایک اہم قدم ہے جس سے تشدد میں کمی آئے گی۔‘‘ طالبان کے ساتھ دوحہ میں ہونے والے امن معاہدے کے تحت پہلی بار افغان حکومت نے بیس طالبان قیدیوں کو رہا کیا ہے۔

افغان حکومت نے مزید سو طالبان قیدی رہا کر دیے

امریکا دوحہ امن معاہدے کی خلاف ورز ی کررہا ہے: طالبان

زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت جب کورونا وائرس جیسی مہلک وبا قیدیوں کے لیے خطرہ بن کر منڈلا رہی ہے، طالبان اور افغان حکومت کو چاہیے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے میں، جو اہداف مقرر کیے گئے ہیں، انہیں جلد از جلد پورا کریں۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ فریقین کو موجودہ صورتحال کے پیش نظر اپنی کوششیں تیز تر کرنی چاہیں۔

انٹرنیشنل ریڈکراس کمیٹی کے مطابق طالبان نے اتوار بارہ اپریل کو حکومت کے قیدیوں کو رہا کیا تھاجبکہ گزشتہ ہفتے افغان حکومت نے اپنی جیلوں میں قید سینکڑوں طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حکومت کے اس قدم کے بعد ہی طالبان نے قیدی رہا کیے۔

امریکا نے 2001 میں افغانستان پر حملہ کرکے طالبان حکومت کو اقتدار سے محروم کر دیا تھا۔اس وقت سے طالبان افغانستان میں موجود امریکی فوج، اس کی قیادت میں اتحادی افواج اور افغان حکومت سے برسر پیکار ہیں۔ امریکا نے اس طویل جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان نے سے مذاکرات کیے اور دوحہ میں فروری کے اواخر میں طالبان اور امریکا کے درمیان ایک امن معاہدہ طے پا گیا۔

29 فروری 2020 کو زالمے خلیل زاد نے طالبان کے ساتھ جس معاہدے پر دستخط کیے تھے اس میں اولین شرطوں میں سے ایک یہ تھی کہ

 افغان حکومت تقریبا پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرے گی اور اس کے بدلے میں طالبان نے حکومت کے جن ایک ہزار سکیورٹی فورسز کو قید کر رکھا ہے، اسے وہ رہا کر دیں گے۔ شرط یہ تھی کہ افغان حکومت اور طالبان کے مابین طویل اور پیچیدہ امن مذاکرات سے قبل قیدیوں کی رہائی ضروری ہے۔

امریکا اور طالبان کے درمیان اس معاہدے کو جنگ کے خاتمے کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں افغانستان کی سرزمین سے امریکا اپنے 13000 فوجیوں کی تعداد 8600 تک کم کرے گا اور اگر طالبان افغانستان میں دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں نہ فراہم کرنے کے وعدوں پرعمل کرتے ہیں تو، معاہدے کے مطابق، واشنگٹن 14 ماہ کے دوران اپنے باقی فوجی بھی وطن واپس بلا لے گا۔

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ گزشتہ دس مارچ کو ہونا تھا تاہم فریقین نے ایک دوسرے پر ایسے مطالبات کرنے کا الزام عائد کیا جن کا ذکر معاہدے میں نہیں تھا جس کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی۔ 

افغان حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک تقریبا تین سو ایسے طالبان کو رہا کردیا ہے جنہوں نے دوبارہ ہتھیار نہ اٹھانے کا عہد کیا ہے اور ان کی رہائی میں صحت، ان کی عمر اور اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ انہوں نے جیل میں کتنی مدت گزار لی ہے۔ 

ص ز/ ج  ا(نیوز ایجنسیاں)