طالبان قابل اعتبار نہیں، امریکی تجزیہ کار | حالات حاضرہ | DW | 04.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

طالبان قابل اعتبار نہیں، امریکی تجزیہ کار

ان اطلاعات کے بعد کہ افغان طالبان نے روس سے پیسے لے کر امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا امریکا میں ناقدین کا کہنا ہے کہ افغان معاہدے کے حوالے سے طالبان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

اس سنگین الزام کا طالبان اور امریکا کے درمیان  ڈیل پر بظاہر کوئی اثر نہیں ہوا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ 

امریکی میڈیا کے مطابق امریکی فوجیوں کو طالبان کے ہاتھوں قتل کرانے میں روس کے کردار کی معلومات انٹیلیجنس اہلکاروں نے صدر ٹرمپ کو رواں برس ستائیس فروری کو ایک معمول کی بریفنگ کے دوران دی۔ لیکن امریکا نے پھر بھی دو روز بعد خلیجی ریاست قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے ساتھ ڈیل پر دستخط کر دیے تھے۔

سمجھوتے سے یہ امکان پیدا ہوا کہ امریکا انیس برسوں سے جاری جنگ کا خاتمہ کر کے باہر نکل سکتا ہے۔ معاہدے کے تین دن بعد تین مارچ کو امریکی صدر اور طالبان کے لیڈر ملا عبد الغنی برادر کے درمیان ٹیلیفون پر پینتیس منٹ تک بات چیت ہوئی۔

سمجھوتے کے تحت طالبان اپنے حملے کم کرنےکے پابند تھے۔ انہوں نے اس کا بھی وعدہ کر رکھا ہے کہ ان کے زیر قبضہ علاقوں میں شدت پسند گروپوں کو افزائش کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ اس وقت نصف کے قریب افغان علاقوں پر طالبان کو کنٹرول حاصل ہے۔ لیکن وعدوں کے برعکس، ملک میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

اس ڈیل کے ناقدین میں شامل امریکی کانگریس کے ریپبلکن رکن مائیک والز کا کہنا ہے کہ ڈیل صرف امریکی فوج کے انخلا کا بہانا ہے۔ والز کے مطابق طالبان متعدد مرتبہ پرتشدد واقعات کا ارتکاب کر چکے ہیں اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ڈیل پر عمل کرنے میں سنجیدہ نہیں۔

افغانستان میں امریکی فوجی آپریشن کی نگرانی کرنے والے میرین جنرل فرینک میکینزی نے وسط جون میں کہا تھا کہ انہیں یقین نہیں کہ طالبان ڈیل پر پوری طرح عمل کریں گے، اس لیے وہ امریکی فوج کی فوری واپسی کے حق میں نہیں ہیں۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر مائیک مورل نے چوبیس جون کو ایوان نمائندگان کی انٹیلیجنس اور انسداد دہشت گردی کی کمیٹی کو بتایا تھا کہ سن 2001 کے مقابلے میں افغان طالبان عسکری اور سیاسی طور پر بہت مضبوط نظر آتے ہیں۔

بعض فوجی ماہرین کا موقف ہے کہ طالبان کو امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کے لیے روس کی طرف سے مالی مراعات کی قطعاً ضرورت نہیں۔ افغان امور کےایک ماہر اور امریکی انسٹیٹیوٹ برائے امن سے وابستہ اسکاٹ اسمتھ کا خیال ہے کہ اصل میں اہم یہ کہ آیا طالبان ڈیل کے نکات پر عمل پیرا ہوتے ہیں یا نہیں۔ ریپبلیکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے ساتھ ساتھ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی تک طالبان چار ماہ پرانے معاہدے کی توقعات پر پورے نہیں اترے۔

طالبان امریکا معاہدے کے تحت امریکا کو مئی سن 2021 تک  افغانستان میں سے اپنی افواج کا انخلا مکمل کرنا ہو گا۔ ابھی تک امریکا افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد بارہ ہزار سے کم کر کے آٹھ ہزار چھ سو پر لا چکا ہے۔ فوج کی تعداد کم کرنے کا یہ عمل شیڈیول کے مطابق ہے۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ صدر ٹرمپ ہر صورت اس جنگ زدہ ملک سے اپنے فوجیوں کی تعداد کم کرنا چاہتے ہیں۔

 

ع ح، ش ج (اے پی)