طالبان حکومت: بھارتی فورسز کا نیا ٹریننگ ماڈیول | معاشرہ | DW | 13.09.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

طالبان حکومت: بھارتی فورسز کا نیا ٹریننگ ماڈیول

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد نئے حالات کو دیکھتے ہوئے انسداد دہشت گردی پر مامور بھارتی فورسز کے لیے ایک نیا ٹریننگ ماڈیول وضع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکام کو دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

بھارت کے مرکزی سکیورٹی ادارے نے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعینات سرحدی فورسز اور پولیس کے یونٹوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ افغانستان پر طالبان کے قبضہ کے بعد کے حالات کو دیکھتے ہوئے کسی ممکنہ دہشت گردانہ کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے اہلکاروں کو تیار کریں اور اس کے لیے ایک نیا ٹریننگ ماڈیول نافذ کریں۔

بھارتی میڈیا نے اعلی سکیورٹی اہلکاروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ مرکزی سکیورٹی ادارے کی طرف سے یہ نیا ہدایت نامہ اس لیے جاری کیا گیا ہے کیونکہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کی مغربی سرحد سے دہشت گردوں کی دراندازی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی دہشت گردوں کے حملے کے خدشات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔

بھارتی دفاعی حکام کے مطابق سقوط کابل کے بھارت میں سکیورٹی صورت حال پر 'سنگین اثرات‘ مرتب ہو سکتے ہیں۔اس لیے وسطی اور جنوبی ایشیا کی نئی جغرافیائی سیاسی صورت حال اور بھارت کی سرحدوں اور اندرونی علاقے پر مرتب ہونے والے اس کے سنگین سکیورٹی مضمرات کے مدنظر بھارتی فورسز اور انٹلیجنس، دونوں کو اپنے لائحہ عمل، حکمت عملی اور کارروائی کے طریقہ کار کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

نئے ٹریننگ ماڈیول کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

رپورٹ کے مطابق ایک اعلی بھارتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس وقت بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف)، ششتر سیما بل (ایس ایس بی)، ریاستی پولیس یونٹ اور انسداد دہشت گردی کی ذمہ داری سنبھالنے والے سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور کشمیر پولیس کے اہلکار ''Changing dynamics for border management''  کے عنوان سے مرتب طریقہ کار کے مطابق کام کرتے ہیں،”اس میں طالبان کے بارے میں اطلاعات تو موجود ہیں لیکن یہ اپ ڈیٹ نہیں ہیں۔ عالمی منظر نامے میں ہونے والی تبدیلیوں کے بعد ان معلومات کو اب اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ اس میں اس بات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے کہ نائن الیون کے بعد گزشتہ 20 برس کے دوران کیا تبدیلیاں ہوئی ہیں۔"

طالبان حکومت کا قیام اور بھارت کو درپیش چیلنجز

خیال رہے کہ بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف نے 15 اگست کو افغانستان پر طالبان کے  کنٹرول کے بعد کہا تھا کہ بھارت دہشت گردی میں ممکنہ اضافہ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے،''ہمیں اس بات کی فکر ہے کہ افغانستان میں طالبان کی سرگرمیوں سے بھارت کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔اس کا اثر بھارت میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کی شکل میں بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے اور ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے ہم اپنی طرف سے پوری تیاری کر رہے ہیں‘‘۔

طالبان کے بارے میں سب کچھ بتایا جائے گا

نئے ٹریننگ ماڈیول میں فورسز کو پوری طرح سے اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ اس میں طالبان سے متعلق خفیہ اطلاعات، ان کے جنگ کرنے کے طریقے، ان کی قیادت میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی جائے گی۔

ایک اعلی بھارتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ سرحد پر تعینات جوانوں کے ساتھ ہی سرحدی ریاستوں کی پولیس فورس کے لیے بھی ایسی اطلاعات کافی اہم ہوتی ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ طالبان کی تاریخ کیا ہے۔ کن کن تنظیموں کے ساتھ ان کے تعلقات ہیں اور وہ کس طرح کام کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا،”سرحد کی کسی چیک پوسٹ پر یا کسی علاقے میں کھڑے پولیس اہلکار کے لیے طالبان کی تاریخ، ان کی سرگرمیوں اور ان کی حکافغانستان کے معاملے پر بھارت شش و پنج میں مبتلامت عملی کے بارے میں جاننا نہایت اہم ہے۔"

اعلی سرکاری عہدیدار کا مزید کہنا تھا،”سکیورٹی فورسز کے اعلی اور چوٹی کے کمانڈروں کو افغانستان اور طالبان کے بارے میں بیشتر چیزیں معلوم ہوتی ہیں لیکن وہ اپنی آپریشنل طاقت فوجی جوان، یا کسی مخصوص جگہ تعینات کانسٹیبل سے ہی حاصل کرتے ہیں۔ ایسے میں ان اہلکاروں کو زیادہ بہتر طور پر واقف ہونا چاہیے۔" انہوں نے مزید بتایا کہ یہ ضروری معلومات انہیں ان کی اپنی اور مقامی زبانوں میں دستیاب کرائی جائیں گی۔