طالبان حملے روکنے پر آمادہ نہیں، مذاکرات کار | حالات حاضرہ | DW | 02.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

طالبان حملے روکنے پر آمادہ نہیں، مذاکرات کار

طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے والے افغان حکومتی وفد میں شامل ایک رکن نے کہا ہے طالبان کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ لڑائی کے ذریعے اقتدار حاصل کیا جا سکتا ہے، جو ایک ’خطرناک ذہنیت‘ ہے۔

طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے والے افغان حکومتی وفد کے ایک رکن حافظ منصور نے کہا ہے کہ طالبان ابھی تک جنگ بندی پر تیار نہیں ہیں۔ یہ بات انہوں نے ایک ایسے موقع پر کہی ہے جب طالبان اور افغان حکومت کے وفود آئندہ ہفتے سے مذاکرات کا سلسلہ بحال کرنے والے ہیں۔

'خطرناک ذہنیت‘

حافظ منصور کے مطابق طالبان فورسز کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ لڑائی کے ذریعے اقتدار حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے افغان حکومت کو اس حوالے سے خبردار کرتے ہوئے اسے ایک ‘خطرناک ذہنیت‘ قرار دیا۔

طالبان تشدد کی راہ چھوڑ کر حکومت میں شامل ہوں، افغان نائب صدر

افغانستان ميں قيام امن کے ليے پاکستان کا مثبت کردار

افغانستان: کابل کے نائب گورنر سمیت تین افراد ہلاک

طالبان اور افغان حکومت کے درمیان براہ راست بات چیت کا آغاز گزشتہ برس ہوا تھا جس کا مقصد ملک میں جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا ہے تاکہ افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کی واپسی کے بعد ملک میں ایک متفقہ جمہوری حکومت کا قیام عمل میں آ سکے۔ گزشتہ برس 29 فروری کو طالبان اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف حملوں میں کمی لائیں گے۔ اسی معاہدے میں یہ بھی طے پایا تھا کہ طالبان اور افغان حکومت براہ راست مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع کریں گے تاکہ افغانستان سے امریکی اور غیر ملکی فوجوں کی واپسی کی راہ ہموار ہو سکے۔

معاہدے کے لیے امریکی مدد کوششیں

حافظ منصور کے مطابق بعض ایسے ممالک جو گزشتہ دو دہائیوں میں افغانستان کی مدد کرتے رہے ہیں وہ ایک عبوری حکومت کے قیام کے لیے مدد کرنے کو تیار ہیں۔ یہ عبوری حکومت دراصل حکومت کی موجودہ شکل سے ایک نئی ہیت میں تبدیلی کو ممکن بنائے گی جس پر طالبان اور افغان حکومت کے درمیان اتفاق رائے ہو گا۔

افغان حکومت کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے والے وفد کے رکن حافظ منصور کے بقول امریکا کی یہ کوشش ہو گی کہ رواں برس مئی میں امریکی افواج کی مکمل واپسی سے قبل طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ایک معاہدہ طے پا جائے۔ طالبان اور امریکا کے درمیان فروری 2020ء میں دوحہ میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق امریکی فورسز رواں برس مئی تک افغانستان سے نکل جائیں گی۔

Afghanistan Friedensgepräche in Doha

گزشتہ برس 29 فروری کو طالبان اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف حملوں میں کمی لائیں گے۔

حافظ منصور کے مطابق بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں کہ ایک عبوری حکومت کے قیام پر اتفاق رائے ہو جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی ٹیم پیر چار جنوری کو دوحہ روانگی سے قبل افغان حکومت سے حتمی رہنمائی حاصل کرے گی۔ یہ مذاکرات منگل پانچ جنوری سے شروع ہونا ہیں۔

کسی ایک گروپ کی حکومت ناممکن

قبل ازیں افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح کہہ چکے ہیں کہ افغانستان ایک پیچیدہ ملک ہے جہاں کسی ایک گروپ کی طرف سے حکومت کرنا ناممکن ہے۔ انہوں نے طالبان سے کہا تھا کہ وہ تشدد کا راستہ چھوڑ کر حکومت میں شامل ہوں کیونکہ تشدد کے ذریعے کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:50

افغانستان میں طالبان کی قیادت میں زندگی کیسی ؟

ا ب ا / ع ح (ڈی پی اے)