طالبان اور امريکا کے مابين امن مذاکرات کی بحالی پر زور | حالات حاضرہ | DW | 26.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

طالبان اور امريکا کے مابين امن مذاکرات کی بحالی پر زور

امریکا، روس، چین اور پاکستان کے مندوبین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہے۔

ماسکو میں جمعہ پچیس اکتوبر کو چاروں ممالک کے مندوبین کے درمیان دن بھر کی بات چیت کے بعد طالبان سے مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے بیان کے مطابق چین، روس اور پاکستان نے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ایک ایسے معاہدے پر حتمی شکل دی جا سکے جس کے تحت جنگ ختم ہونے کے بعد کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔

افغانستان ميں جنگ بندی پر زور، انتخابی نتائج کا اعلان ملتوی
اس اعلامیے میں افغانستان میں پرتشدد کارروائیوں میں کمی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ مبصرین کے خیال میں پرتشدد حملوں میں کمی کے بعد امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ پندرہ نکات پر مبنی اعلامیے میں افغان سرزمین پر سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی کارروائياں روکنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ چاروں ممالک کے مندوبین نے دوبارہ ملاقات پر بھی اتفاق کیا ہے۔

چین میں  ’انٹرا افغان ڈائلاگ‘
اسی حوالے سے چینی دارالحکومت بیجنگ میں آئندہ ہفتے ہونے والا ’انٹرا افغان ڈائلاگ‘ بھی فی الوقت ملتوی کر ديا گيا ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ايٹڈ پریس کے ذرائع کے مطابق یہ تاخير مختصر ہے تاہم ابھی تک نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔  واضح رہے حکام کی جانب سے چین میں منعقد ہونے والے انٹرا افغان ڈائیلاگ میں التوا کی تصدیق فی الحال سامنے نہیں آئی ہے لیکن گزشتہ مذاکراتی عمل بھی فریقین کی جانب سے شرکاء پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوگيا تھا۔

چین میں بات چیت کا عمل اگر شروع ہوتا ہے تو جولائی کے بعد سے افغان فریقین کے درمیان براہ راست گفتگو کا یہ پہلا موقع ہوگا۔ افغان صدر اشرف غنی، جو کہ ماضی میں طالبان کے ساتھ افغان حکومت کی شرکت کے بغیر بات چیت کی مخالفت کرتے رہے ہیں، کی حکومت نے بھی مندوبین بھیجنے کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔ 

چین میں ہونے والے انٹرا افغان ڈائیلاگ میں کابل سے متعدد نامور شخصیات کی شرکت متوقع ہے، جس میں صابق صدر حامد کرزئی بھی شامل ہیں۔ کرزئی طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت کے حامی رہے ہیں۔ انہوں نے ماسکو میں طالبان کے ساتھ مذاکرتی عمل میں بھی شرکت کی تھی۔

دوسری جانب طالبان کے وفد کی قیادت افغانستان میں طالبان تحریک کے شریک بانی ملا عبدالغنی برادر کریں گے۔ برادر آٹھ برس تک پاکستانی جیل میں قید تھے اور انہوں نے سن 2010 میں اس وقت کے افغان صدر حامد کارزئی کے ساتھ خفیہ مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ عبدالغنی برادر کو امریکا کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور پاکستانی انسداد دہشت گردی کی فورسز نے ایک مشترکہ آپریشن میں گرفتار کیا تھا۔ افغانستان میں امریکی سربراہی میں اتحادی فورسز کی موجودگی کے قریب بیس برس بعد بھی  ملک کے نصف حصے پر طالبان کا کنٹرول ہے۔

 کیا ایک مرتبہ پھر امریکا اور طالبان کے مابین مذاکرات کا آغاز ہو گا ؟ 
امریکا اور طالبان کے مابین بات چیت قطر کے دارالحکومت دوحہ میں کئی  ماہ پر محیط متعدد مذاکراتی ادوار پر مشتمل اور اپنے کامیاب اختتام کے بہت قریب تھی۔ تاہم کابل میں ہونے والے ہلاکت خیز بم حملے کے بعد صدر ٹرمپ نے اس بات چیت کے 'مردہ‘ ہو جانے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس حملے میں ایک امریکی فوجی کے علاوہ 11 افغان شہری بھی مارے گئے تھے۔
ع آ / ع س (اے پی، نیوز ایجنسی)

DW.COM