طاقت ور طوفان سے تاج محل کے دروازوں کے دو مینار الٹ گئے | فن و ثقافت | DW | 12.04.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

طاقت ور طوفان سے تاج محل کے دروازوں کے دو مینار الٹ گئے

بھارتی شہر آگرہ میں ایک طاقت ور طوفان سے تاریخی تاج محل کی عمارت کے مرکزی دروازوں پر دو مینار الٹ گئے۔ تاہم بھارتی محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق اس طوفان سے تاج محل کی سنگ مرمر کی مرکزی عمارت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

بھارتی ریاست اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ سے جمعرات بارہ اپریل کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق یہ طوفان بدھ گیارہ اپریل اور جمعرات بارہ اپریل کی درمیانی شب آیا، جس دوران انتہائی تیز ہواؤں کی رفتار 130 کلومیٹر یا 80 میل فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی۔

تاج محل کا مستقبل، بھارتی حکومت کی جواب طلبی ہو گئی

تاج محل کو بھارت کے سیاحتی مقامات سے کیوں نکالا گیا؟

تاج محل: پتھر کی چمک کی بحالی کے لیے نو سال تک مٹی کا لیپ

محکمہ آثار قدیمہ کے اہلکار بھوبنیش کمار نے بتایا کہ اس طوفان سے تاج محل کے دو میناروں کو جو نقصان پہنچا ہے، وہ مقابلتاﹰ معمولی ہے اور تعمیراتی ماہرین جلد ہی اس کا ازالہ کرتے ہوئے ان دونوں میناروں کو دوبارہ ان کی اصلی حالت میں لے آئیں گے۔

بھوبنیش کمار کے مطابق شمالی بھارتی شہر آگرہ میں اس طوفان کے باعث گزشتہ رات صدیوں پرانے تاج محل کے جو دو چھوٹے مینار متاثر ہوئے، وہ اس عمارت کے مرکزی داخلی دروازوں پر بنے ہوئے تھے۔

انہوں نے بتایا، ’’طوفان کے باعث جو دو مینار الٹ گئے، ان میں سے ایک چھوٹا مینار دراصل تین میٹر یا 12 فٹ اونچا ایک ایسا دھاتی ستون تھا، جو ایک مرکزی دروازے پر بنا ہوا تھا۔ دوسرا مینار بھی ایک ایسا ستون تھا، جو اس عمارت کے اس جنوبی گیٹ پر بنایا گیا تھا، جہاں سے سیر کے لیے آنے والے مہمان اس تاریخی عمارت تک پہنچتے ہیں۔‘‘

بھارتی سیاحت جرمن شہری کے لیے مصیبت بن گئی

بھارت میں سوئس سیاحوں کی بری طرح پٹائی

سنگ مرمر کا بنا ہوا تاج محل بھارت میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے انتہائی پرکشش مقامات میں سے ایک ہے، جسے مغل شہنشاہ شاہجہان نے 17 ویں صدی عیسوی میں اپنی ملکہ ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کروایا تھا۔ ’محبت کی اس یادگار‘  کو دیکھنے کے لیے ہر سال سات ملین سے زائد انسان آگرہ کا رخ کرتے ہیں۔

م م / ع ق / اے پی

DW.COM