صوبہ سندھ میں کورونا کا نیا حملہ، نو روز کے لیے لاک ڈاؤن | حالات حاضرہ | DW | 30.07.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

صوبہ سندھ میں کورونا کا نیا حملہ، نو روز کے لیے لاک ڈاؤن

کراچی سمیت سندھ بھر میں کورونا کیسز کی شرح میں تشویش ناک اضافے کے باعث صوبائی حکومت نے اپوزیشن اور تاجر برادری کی تنقید کے باوجود آئندہ 9 روز کے لیے لاک ڈاون نافذ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

تاجر برادری اور اپوزیشن رہنماوں کی مخالفت کے باوجود وزیر اعلٰی سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ طبی ماہرین کی تجویز پر فیصلہ پہلے ہی تاخیر سے لیا گیا ہے لیکن اگر اب بھی فیصلہ نہیں کیا تو آخری موقع بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔

کورونا سے اموات اور کیسز

سندھ میں 29 جولائی کو کورونا کی وجہ سے مزید 45 مریض انتقال گئے، جو ڈیرھ برس کے دوران ایک روز میں اموات کی سب سے زیادہ تعداد ہے اور مجموعی طور پر اب تک 5997 افراد وائرس سے متاثر ہوکر زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان، کورونا وائرس کیسز کی تعداد ایک ملین سے تجاوز کر گئی

 29 جولائی کو ہی 2792 نئے کورونا کیسز بھی رپورٹ ہوئے جس میں سے 1796 کراچی کے ہیں، شہر کا ضلع شرقی سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں ایک دن میں کیسز کی تعداد 558 رہی، ضلع وسطی 466، ضلع جنوبی 425،  اور ضلع کورنگی میں 210 نئے کیسز سامنے آئے، تاہم ضلع ملیر اور غربی میں کیسز کی تعداد یومیہ 100 کیسز سے کم ہے۔

طبی ماہرین کی تجویز

طبی ماہرین کے مطابق عیدالاضحٰی سے قبل ہی خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ جس طرح شہری ہر شعبہ ہائے زندگی میں جس بے احتیاطی سے کام لے رہے ہیں وہ خطرناک ہوسکتا ہے۔ انڈس ہسپتال کے سی ای او ڈاکٹر عبدالباری نے  ڈی ڈبلیو کو بتایا، '' عید کی تعطیلات میں خدشہ درست ثابت ہوا، صوبے میں اس وقت کورونا کیسز کی شرح 13 فیصد سے زیادہ ہے، حیدر آباد ساڑھے 14 فیصد اور  کراچی میں سب سے زیادہ 24 فیصد تک  پہنچ چکی ہے۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 02:22

قربانی کے جانوروں کی سب سے بڑی منڈی، کورونا ضوابط کی خلاف ورزیاں

پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت قاسم سومرو نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا، ''کراچی کے 36 نجی اور سرکاری اسپتالوں میں 539 وینٹیلیرز ہیں، جن میں سے 5 سو سے زائد پر مریض موجود ہیں۔ وائرس حاملہ خواتین اور کم سن بچوں میں بھی منتقل ہو رہا ہے جبکہ کورونا کی تبدیل شدہ قسم ڈیلٹا انتہائی مہلک ثابت ہو رہی ہے اور تیزی سے پھیل رہی ہے اور اب تک اس قسم کے 58 فیصد مریض وہ ہیں جہنوں نے ویکسینشن نہیں کرائی ہے۔‘‘

اپوزیشن، تاجر رہنماوں کی مخالفت

لاک ڈاون کے فیصلے سے قبل سندھ حکومت کے کورونا ٹاسک فورس کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران اور تاجر نمائندوں کو بھی خصوصی طور پر بلایا گیا تھا تاکہ اتفاق رائے سے فیصلہ کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیے:کئی پاکستانی علاقوں میں ڈیلٹا ویریئنٹ کی تصدیق، عوام خوفزدہ

لیکن اجلاس ختم ہوتے ہی تحریک انصاف اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی جانب سے لاک ڈاون فیصلے کی مخالفت سامنے آئی جبکہ تاجروں نے بھی فیصلے کو مسترد کرنے کا اعلان کردیا۔

تاجر  رہنما عتیق میر کہتے ہیں، ''ایک ہفتے کے لاک ڈاؤن سے 50 ارب روپے کا نقصان ہوگا اور 45 ہزار افراد براہ راست متاثر ہوں گے، لہذا حکومت اس فیصلے پر نظر ثانی کرے۔‘‘ سندھ تاجر اتحاد کے سربراہ جمیل پراچہ نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے فیصلوں سے قبل مشاورت نہیں کی، '' ہمیں تو بتایا گیا تھا کہ کاروبار کے لیے نرمی کے اقدامات کیے جائیں گے، جو شعبے بند ہیں وہ بھی کھول دیے جائیں گے۔‘‘

وزیر اعلٰی سندھ کی اپیل

وزیر اعلٰی مراد علی شاہ نے ایک نیوز کانفرنس میں گفتگو کے دوران کہا کہ یہ ایک مشکل وقت ہے، جس میں مشکل فیصلے کیے گئے ہیں، ''کورونا کی ڈیلٹا قسم بہت خطرناک ہے، مجبوری میں مشکل فیصلےکیے گئے ہیں تاکہ ہسپتالوں میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنایا جاسکے، اگر شہری تعاون کریں گے تو 9 اگست سے پابندیوں میں نرمی کی طرف جائیں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں کووڈ انیس کے سبب ہلاکتوں میں اضافہ: ماہرین کیا کہتے ہیں؟

 انہوں نے زور دیا کہ اس صورتحال میں بہتری کے لیے زیادہ سے زیادہ شہری ویکسینشن لگوائیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت کی کوشش ہوگی کہ ویکسینشن کے لیے چھوٹی ٹرانسپورٹ کو بحال کر دیا  جائے۔

کراچی کی تازہ ترین صورتحال کے مطابق ڈیلٹا ویرئینٹ خطرناک حد تک پھیل چکا ہے۔ لیاری کے علاقے میں قائم شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل کالج لیاری میں 4 ماہ کے بچے سمیت 8 سال تک کے بچے ڈیلٹا وائرس میں مبتلاء ہوچکے ہیں جبکہ حاملہ خواتین بھی تیزی سے  بھارت سے شروع ہونے والی اس قسم سے متاثر ہو رہی ہیں۔ طبی ماہرین کی تجویز ہے کہ سخت لاک ڈاؤن کے ساتھ عوام کو مستقل آگہی کے لیے طریقہ کار بھی اپنا چاہیے۔

ویڈیو دیکھیے 03:05

کورونا وائرس: ’امید ہے پاکستان میں بھارت جیسی صورت حال نہیں ہو گی‘

DW.COM