صرف ہندو لڑکیاں ہی کیوں مسلمان ہو رہی ہیں؟ | حالات حاضرہ | DW | 25.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

صرف ہندو لڑکیاں ہی کیوں مسلمان ہو رہی ہیں؟

صوبہ سندھ کے علاقے گھوٹکی سے دو نو عمر ہندوں لڑکیوں کے مبینہ اغوا، قبول اسلام اور پھر شادی کی خبروں کے بعد پاکستان میں ایک بار پھر تبدیلی مذہب کو قانونی شکل دینے کے حوالے سے بحث شروع ہو گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے گھوٹکی سے لاپتہ ہونے والی دو نوعمر بہنوں روینا اور رینا کے اغوا کا مقدمہ درج کرایا  گیا ہے تاہم دونوں لڑکیوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام کے ذریعے اطلاع دی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے مسلمان ہو چکی ہیں اور انہوں نے شادی بھی کر لی ہے۔ ساتھ ہی لڑکیوں نے لاہور ہائی کورٹ میں تحفظ کے لیے درخواست بھی دائر کردی ہے۔

اغوا کا مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے لڑکیوں کے نکاح میں مددگار ایک شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی سطح پر نوٹس لیے جانے کے بعد یہ واقعہ انتہائی اہمیت حامل ہو گیا ہے۔

اس حوالے سے سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی ہندو خاتون سینیٹر کرشنا کماری کوہلی نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کا واقع ہولی کے دن پیش آیا، ’’جب مجھے اس حوالے سے مطلع کیا گیا تو میں نے خود علاقے کے  ایس ایس پی سے بات کی، جنہوں نے بتایا کہ مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور لڑکیوں کو جلد از جلد بازیاب کرانے کی کوشش کی جائے گی مگر اس وقت تک لڑکیاں صوبہ سندھ سے رحیم یار خان منتقل کی جا چکی تھیں کیونکہ سندھ کی طرح پنجاب میں کم عمری کی شادی قانوناً جرم نہیں، اسی لیے لڑکیوں کو پنجاب منتقل کردیا گیا ہے۔‘‘

کرشنا کا مزید کہنا تھا، ’’ایک روز لڑکیاں اغوا ہوتی ہیں دوسرے روز ان کا نکاح نامہ سامنے آجاتا ہے، اگر وہ اپنی مرضی سے اسلام قبول کر رہی ہیں تو انہیں گھر میں بہن اور بیٹی بناکر کیوں نہیں رکھا جاتا؟‘‘

کرشنا کماری کے سوالات کے جوابات کے لیے جب گھوٹکی کے بااثر اور اس معاملے میں سب سے متنازعہ شخصیت پیر عبدالحق عرف میاں مٹھا سے رابطہ کیا گیا تھا تو ان کا کہنا تھا،’’ گھریلو ناہمورایوں، ذات پات سے تنگ ہر عمر کے لوگ اسلام کے دائرے میں شامل ہورہے ہیں مگر سیاست کرنے والے شور صرف لڑکیوں کے قبول اسلام پر مچاتے ہیں کیونکہ اس سے پاکستان بدنام ہوتا ہے اور سیاست چمکتی ہے۔‘‘

میاں مٹھا نے ڈی ڈبلیو سے باتیں کرتے ملکی اور غیر ملکی میڈیا کو دعوت دی کہ وہ گھوٹکی آ کر مسلمان ہونے والوں سے خود پوچھیں کہ ان کےساتھ زبردستی کی گئی ہے؟

انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کے نابالغ ہونے کا دعوٰی کرنے والوں نے رنکل کماری کے معاملے میں بھی ایسے ہی شور مچایا تھا لیکن جب میڈیکل ہوا تو اس کی عمر بھی 20 برس نکلی،’’اب رنکل اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہ رہی ہے، عمرہ کر چکی ہے، علاقے کے بچوں کو قرآن پاک پڑھانے کے لیے مدرسہ چلا رہی ہے، کیا یہ سب میں نے زبردستی کرایا ہے؟‘‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ عوام کی خدمت کرتے ہیں، اس کی لیے لوگ ان کو پسند کرتے ہیں، آخری الیکشن میں بھی انہیں تمام سیاسی جماعتوں کی مخالفت کے باوجود بھی91 ہزار ووٹ ملے تھے۔

قبول اسلام کے بعد فوری شادی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے میاں مٹھا کا کہنا تھا کہ لڑکی تنہا اسلام قبول کرتی ہے اور بغیر محرم کے اگر ہم اسے رکھیں گے تو مزید نئے نئے الزامات اور تہمتیں لگائی جائیں گے،’’لہذا ہم لڑکیوں کو بتاتے ہیں کہ اگر وہ شادی کرنا چاہیں تو چند لڑکے ہیں، جن سے وہ شادی کر سکتی ہیں اور وہ اپنی مرضی اور پسند کے لڑکے سے شادی کرلیتی ہیں۔‘‘

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور پاکستان ہندو کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رمیش کمار نے الزام عائد کیا کہ میاں مٹھا جیسے لوگوں کی سیاسی جماعتیں پشت پناہی کرتی ہیں۔ انہوں نے دعوٰی کیا،’’ایسے کیسز میں کوئی بالغ اور سمجھدار عورت نہیں ملے گی، کوئی لڑکا نہیں ملے گا صرف کمسن اور نوعمر لڑکیوں کو اغوا کیا جاتا ہے پھر پہلے زبردستی کلمہ بڑھایا جاتا ہے اور پھر دوسرا گناہ زبردستی شادی کا بھی کیا جاتا ہے۔‘‘

لڑکیوں کی بازیابی کے لیے سندھ پولیس نے محکمہ پولیس پنجاب سے رابطہ کرلیا ہے تاہم اس واقعہ کے بعد پاکستان میں ایک بار پھر تبدیلی مذہب کو قانونی شکل دینے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 05:45

پاکستانی ہندو، خوف اور غیر یقینی کے بیچ

DW.COM

Audios and videos on the topic