صحافی کے ساتھ زنا بالجبر: تین افراد کو سزائے موت | معاشرہ | DW | 04.04.2014
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

صحافی کے ساتھ زنا بالجبر: تین افراد کو سزائے موت

جمعے کے روز ایک بھارتی عدالت نے گزشتہ برس ممبئی میں ایک خاتون فوٹو جرنلسٹ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے تین افراد کو سزائے موت سنا دی۔

بھارتی جج شیلینی جوشی نے جمعے کے روز اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ زنا بالجبر کے مرتکب افراد کو سزائے موت دیے جانے سے معاشرے کو ایک پیغام بھی دیا گیا ہے۔

جمعے کے روز جن تین ملزمین کو موت کی سزا سنائی گئی ان پر گزشتہ برس بھارت کے اقتصادی دارالحکومت ممبئی کی ایک خالی ٹیکسٹائل فیکٹری میں ایک خاتون صحافی کو اجتماعی جنسی زیادتی بنانے کا الزام تھا۔ ان افراد کے ساتھ اس جرم میں ایک اور شخص بھی شریک تھا جس کو عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

استغاثہ اجول نکم کے بقول انہوں نے ’ریپ‘ کے مرتکب افراد کے لیے نافذ کردہ نئے اور سخت قانون کے تحت مذکورہ افراد کے لیے موت کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ قانون بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک نوجوان لڑکی کو بے دردی سے جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے کے بعد ملک گیر عوامی غصے اور احتجاج کے بعد لاگو کیا گیا تھا۔

اس مناسبت سے نکم کا کہنا تھا، ’’ایسا بھارت میں پہلی بار ہوا ہے کہ ملزمین کو سزائے موت سنائی گئی ہو جب کہ زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون حیات بھی ہوں۔‘‘

مذکورہ تین افراد پر گزشتہ برس جولائی کے مہینے میں اسی فیکٹری میں کال سینٹر کی ایک آپریٹر کو ریپ کرنے کا الزام بھی تھا جو کہ گزشتہ ماہ عدالت میں ثابت ہو گیا۔ نکم کے مطابق یہ افراد ’’عادی مجرم‘‘ تھے۔

سخت قوانین

بھارت میں زنا بالجبر کے خلاف عوامی احتجاج اور سخت قوانین کے نفاذ کا مطالبہ سن 2012 کے اختتام پر ایک چلتی ہوئی بس میں طب کی ایک طالبہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد شروع ہوا۔ اس درد ناک واقعے کے نتیجے میں اس لڑکی کی موت واقع ہو گئی تھی۔ دہلی میں پیش آنے والے اس جرم میں چار افراد کو موت کی سزا سنا دی گئی تھی۔ نئی دہلی اور ممبئی کے ریپ سے متعلق مقدمات صرف سات ماہ کی قلیل مدت میں نمٹا دیے گئے۔

ممبئی میں جن چار افراد کو سزا سنائی گئی ہے وہ عدالتی فیصلے کے خلاف تین ماہ کے اندر اپیل کر سکتے ہیں۔