صحافتی حلقوں میں ڈرون جرنلزم کی بات | معاشرہ | DW | 20.01.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

صحافتی حلقوں میں ڈرون جرنلزم کی بات

ڈرون کا سن کر سب سے پہلے بغیر پائلٹ کے ایک ایسا جہاز ذہن میں آتا ، جو دہشت گردوں پرحملے کرنے کے استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈرون کو جاسوس طیارہ بھی کہا جاتا ہے۔

default

انہی طیاروں کی مدد سے افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لیکن کیا یہ طیارے صرف حملہ ار جاسوسی کرنے میں ہی استعمال ہو رہے ہیں؟ جی نہیں ابیسا نہیں ہے۔ اب صحافتی حلقوں میں ڈرون جرنلزم کی بات ہو رہی ہے۔ آخر صحافی ڈرون کو کس طرح سے استعمال کر رہے ہیں؟

نیوزکارپوریشن دنیا کا دوسرا بڑا میڈیا گروپ ہے۔ اس کے مالک روپرٹ مرڈوک نے فروری 2011ء نے ایک تجربہ شروع کیا تھا۔ انہوں نے ’آئی پیڈ‘ اور ڈرونز کی مدد سے امریکہ میں آنے والے سیلاب کی رپورٹنگ کی تھی۔ ڈرون جرنلزم کیا ہے؟ اس بارے میں ڈوئچے ویلے اکیڈمی کے ٹرینر مارکوس بوش تحقیق کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تمام ڈرونز ایک جیسے نہیں ہوتے۔’’بنیادی طور پر ڈرونز کی مختلف قسمیں ہیں۔ آج کل ڈرونز بہت چھوٹے سائز میں بھی دستیاب ہیں۔ ان میں سے ایک ’کواڈروکاپٹر‘ ہے، جو ایک چھوٹے ہیلی کاپٹر کی طرح ہے۔ ان کو اب پیشہ ورانہ طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، مثال کے طور پر سرحدوں کی نگرانی کے لیے‘‘۔ ان کا کہنا ہے تھا کہ صحافت میں ڈرونز کا استعمال آنے والے دنوں میں بڑھ جائے گا کیونکہ ڈرونز ہیلی کاپٹرز کے مقابلے میں زیادہ سستے ہو جائیں گے۔

’کواڈروکاپٹر‘ ایک چھوٹے ہیلی کاپٹر کی طرح ہے

’کواڈروکاپٹر‘ ایک چھوٹے ہیلی کاپٹر کی طرح ہے

صحافت کے شعبے میں اس وقت ڈرونز کا استعمال متنازعہ ہے، اس حد تک کہ اس کے قانونی نتائج کا بھی سامنا کرنا پر سکتا ہے۔ لیکن کہا جا رہا ہے کہ ڈرونز کے استعمال میں اضافے کے ساتھ ہی اس حوالے سے قوانین میں بھی نرمی کی امید ہے۔ مثال کے طور پر اس سال میں لندن میں ہونے والے اولمپک کھیلوں میں برطانیہ کی پولیس سلامتی کی صورتحال اور بہتر نگرانی کرنےکے لیے ڈرونز استعمال کرنا چاہتی ہے۔ صحافیوں کے لیے اہم بات یہ ہے کہ اُن کو شاندار تصاویر مل جائیں گی اور اس کے لیے انہیں کام بھی کم کرنا پڑے گا اور اس طرح پیسوں کی بھی بچت ہو گی۔ مارکوس بوش کا بھی خیال ہے کہ قوانین میں تبدیلی ضرور آئے گی۔ ’’میرے خیال میں بہت زیادہ پڑھے جانے والے اخبارات کے لیے ڈرونز کے ذریعے کسی بھی اسٹار کی نجی املاک کی تصاویر بنانا ممکن ہو سکے گا۔ اس وقت مارکیٹ سے تین سو یورو میں ڈرون خریدا جا سکتا ہے۔ جب ڈرون اتنے سستے ہوں گے تو سبھی انہیں استعمال بھی کریں گے‘‘۔

ماہرین کے مطابق ڈرونز کا صحافت میں استعمال کیا جانا بہت سے امکانات میں سے صرف ایک ہے۔ ان کو بحران ذدہ علاقوں اور احتجاجی مظاہروں کی رپورٹنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے علاقوں میں امدادی کاموں کے دوران بھی ڈرونز بہت کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ آنے والے سالوں میں چھوٹے ڈرونز کا معیار میں یقینی طور پر بہتری آئے گی۔

رپورٹ: راحل بیگ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

اشتہار