شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرے افسوسناک ہیں، نریندر مودی | حالات حاضرہ | DW | 16.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرے افسوسناک ہیں، نریندر مودی

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف بھارت کے مختلف حصوں میں جاری پرتشدد مظاہروں اور پولیس کی ’بہیمانہ کارروائیوں‘پر وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے ان مظاہروں کو افسوس ناک قرار دیا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے تاہم دعوٰی کیا کہ شہریت ترمیمی قانون روایت، خیر سگالی، محبت اور بھائی چارے کے کلچر کی علامت ہے۔ شہریت قانون کے خلاف ملک کی مختلف یونیورسٹیوں کے علاوہ بالخصوص شمال مشرقی ریاستوں اور دیگر شہروں میں گزشتہ کئی دنوں سے جاری  پرتشدد مظاہروں، جن میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوچکے ہیں، کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے ان واقعات پر پہلی مرتبہ اپنی رائے ظاہر کرنے کے لیے ایک سے زائد ٹویٹس بھی کیں۔

وزیر اعظم مودی نے ایک ٹویٹ میں کہا، ”شہریت ترمیمی قانون کے حوالے سے پرتشدد احتجاج افسوس ناک ہے اور انتہائی تکلیف دہ بھی۔ بحث و مباحثہ، تبادلہ خیال اور عدم اتفاق جمہوریت کا اٹوٹ حصہ ہوتے ہیں، لیکن عوامی املاک کو نقصان پہنچانا اورمعمولات زندگی میں خلل ڈالنا ہماری فطرت کا حصہ کبھی نہیں رہا۔"

وزیر اعظم مودی نے کہا، ”شہریت ترمیمی قانون 2019 ء کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں زوردار حمایت حاصل ہوئی۔ بڑی تعداد میں ممبران پارلیمان اور سیاسی جماعتوں نے اسے منظور کرانے میں تعاون کیا۔ یہ قانون ہندوستان کی صدیوں پرانی رواداری، خیر سگالی، محبت اور بھائی چارے کے کلچر کی علامت ہے۔"

نریندر مودی نے ایک دوسری ٹویٹ میں لکھا، ”میں نہایت واضح انداز میں تمام بھارتیوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) سے کسی بھی مذہب کا ماننے والا بھارت کا کوئی بھی شہری متاثر نہیں ہو گا۔ اس قانون کے سلسلے میں کسی بھی بھارتی شہری کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ قانون صرف ان کے لیے ہے، جنہوں نے برسوں تک بیرون ملک ظلم و زیادتی برداشت کی اور جن کے پاس پناہ لینے کے لیے بھارت کے علاوہ کوئی اور جگہ نہیں ہے۔"

بھارتی وزیر اعظم مودی نے ایک مختلف ٹویٹ میں لکھا، ”وقت کی ضرورت ہے کہ ہم سب مل کر بھارت کی ترقی اور بھارت کے ہر شہری، بالخصوص غریب، پسماندہ  اور دبے کچلے ہوئے لوگوں کو بااختیار بنانے کے لیے کام کریں۔ ہم ذاتی مفادات والے گروپوں کو بھارت کو تقسیم کرنے اور ملک میں کشیدگی پھیلانے کی اجازت نہیں د ے سکتے۔"

بھارتی سربراہ حکومت نے لوگوں سے افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل بھی کی، ”یہ وقت امن، اتحاد اور بھائی چارگی کی فضا برقرار رکھنے کا ہے۔ میری ہر ایک سے اپیل ہے کہ کسی بھی طرح کی افواہوں اور جھوٹ پھیلانے سے دور رہیں۔"

ویڈیو دیکھیے 02:43

بھارت ہندو راشٹر بننے کی راہ پر ہے، اسدالدین اویسی

اسی دوران حکومتی پالیسیوں اور سرگرمیو ں کی اطلاعات دینے والے ادارے پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل سے جاری کردہ ایک ٹویٹ سے حکومت کی خاصی سبکی بھی ہوئی۔ پی آئی بی کی اس ٹویٹ کا متن کچھ یوں تھا، ”جامعہ (ملیہ اسلامیہ) کو میدان جنگ میں تبدیل ہوتے دیکھنا وہ آخری چیز ہے جس کی تو توقع بھی نہیں کی جا سکتی تھی۔ مجھ سے اپنی مادر علمی کو خون میں لت پت نہیں دیکھا جاتا۔" اس ٹویٹ میں کئی ہیش ٹیگز استعمال کیت گئے تھے۔

اس ٹویٹ کو بعد میں ڈیلیٹ کر دیا گیا اور پھر پی آئی بی نے ٹوئٹڑ پر اپنے ایک دوسرے پیغام میں لکھا، ”ہماری سوشل میڈیا ٹیم کے ایک رکن نے غلطی سے @PIB India ٹوئٹر ہینڈل سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی صورت حال کے بارے میں اپنی ذاتی ٹویٹ جاری کر دی تھی۔ اس غلطی پر ہم معذرت خواہ ہیں۔ مناسب کارروائی کی جارہی ہے۔" پی آئی بی کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق ٹویٹ کرنے والی ملازمہ کا ملازمت کا معاہدہ ختم کر دیا گیا ہے کیوں کہ 'ایسی غلطی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا‘۔

دریں اثناء بھارتی سپریم کورٹ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ کے خلاف پولیس کی 'بہیمانہ کارروائی‘ پر ایک درخواست کی سماعت یہ کہتے ہوئے کل منگل تک کے لیے ملتوی کر دی کہ پہلے پرتشدد مظاہرے بند ہونا چاہییں، اس کے بعد ہی  عدالت اس درخواست کی سماعت کرے گی۔

جاوید اختر، نئی دہلی

DW.COM