شہریت ترمیمی بل: یورپی پارلیمان میں قرارداد، بھارت ناراض | حالات حاضرہ | DW | 27.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

شہریت ترمیمی بل: یورپی پارلیمان میں قرارداد، بھارت ناراض

بھارت میں متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف کئی ملکوں نے آواز اٹھائی ہے۔ اب یورپی پارلیمان میں بھی اس پر بحث کے لیے ایک قرارداد منظور کر لی گئی ہے، جس پر بھارت نے شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے داخلی معاملہ قرار دیا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت ہوئی ہے، جب وزیر اعظم نریندر مودی مارچ میں انڈیا - یورپی یونین سمٹ میں شرکت کے لیے برسلز جانے والے ہیں۔ سات سو اکاون رکنی یورپی پارلیمان میں چھ سو اکاون اراکین کی غیر معمولی اکثریت نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے علاوہ جموں و کشمیر میں عائد پابندیوں پر بحث کے لیے کُل چھ قراردادیں منظور کی ہیں۔ ان پر انتیس جنوری کو بحث اور  تیس جنوری کو ووٹنگ ہو گی۔ قراردادیں منظور ہو جانے کے بعد انہیں بھارتی حکومت، پارلیمان اور یورپی کمیشن کے سربراہان کو بھیجی جائیں گی۔

قرارداد کے مسودے میں کہا گیا ہے، ''بھارت میں شہریت کا تعین کرنے کے طریقے میں انتہائی خطرناک طور پر تبدیلی کی گئی ہے۔ لوگوں کے خدشات کو دور کرنے اور اصلاحات کی بجائے حکومت کے متعدد رہنما مظاہرین کو بدنام کرنے، ان کی تذلیل کرنے اور انہیں ڈرانے دھمکانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔" یورپی یونین کے اراکین پارلیمان نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کے ذریعے بہت بڑی سطح پر لوگوں کو شہریت سے محروم کیا جا سکتا ہے، جس کی وجہ سے کئی لوگ وطن سے محروم ہو جائیں گے۔

بھارت نے یورپی یونین کی اس قرارداد پر شدید تنقید کی ہے۔ حکومتی ذرائع نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، ''یورپی یونین کو ایسے اقدام نہیں اٹھانے چاہئیں، جو جمہوری طور پر منتخب ممبران پارلیمان کے اختیارات اور اتھارٹی پر سوال کھڑے کریں۔"

دہلی میں حکومتی ذرائع کا کہنا تھا، ”سی اے اے پوری طرح بھارت کا داخلی معاملہ ہے اور یہ قانون پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بحث کے بعد جمہوری طریقے سے بنایا گیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یورپی پارلیمان میں قرارداد پیش کرنے والے اور اس کی حمایت کرنے والے کوئی اگلا قدم اٹھانے سے قبل ہم سے رابطہ کریں گے تاکہ انہیں حقائق کی مکمل اور درست معلومات مل سکے۔"

قرارداد کے مسودے میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق اعلامیے کے ساتھ ساتھ بھارت اور یورپی یونین اسٹریٹیجک پارٹنرشپ معاہدہ 2005ء  کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی حکام سے اپیل کی گئی ہے کہ سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے ساتھ ”تعمیری مذاکرات" کریں اور ”امتیازی سلوک والے سی اے اے" کو منسوخ کرنے کے ان کے مطالبے پر سنجیدگی سے غور کریں۔کیوں کہ سی اے اے بھارت میں شہریت کا تعین کرنے کے طریقے میں خطرناک تبدیلی کرے گا۔"

نریندر مودی حکومت کا کہنا ہے کہ نئے شہریت ترمیمی قانون سے کسی کی شہریت نہیں ختم ہو گی بلکہ اسے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں ظلم و زیادتی کا شکار ہونے والی اقلیتوں (ہندو، سکھ، مسیحی، جین،پارسی، بدھ)کو تحفظ حاصل ہو سکے گا۔اس قانون میں تاہم مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل یورپی یونین کے ڈیڑھ سو سے زیادہ قانون سازوں نے مطالبہ کیا تھا کہ بھارت کے ساتھ کسی بھی طرح کے تجارتی معاہدے سے قبل انسانی حقوق کے حوالے سے سخت ضابطے اور ان کے نفاذ کے لیے موثر میکانزم طے کیے جائیں۔ یورپی یونین کے اراکین پارلیمان نے جموں و کشمیر کی صوررت حال سے نمٹنے میں ہندو قوم پرست جماعت کے طریقہ کار پر بھی سخت نکتہ چینی کی تھی اور گزشتہ اکتوبر میں چند اراکین پارلیمان کو کشمیر کا دورہ کرائے جانے پر اعتراض کیا تھا۔

یورپین فری الائنس گروپ نے ایک بیان میں کہا تھا، ”ہم اس طرح کے دورے کو مودی حکومت کے قوم پرستی کے ایجنڈے کو نافذ کرنے اور ان کی حکومت میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کو درست ٹھہرانے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی مذمت کرتے ہیں۔"

اس ماہ کے اوائل میں جب مودی حکومت نے بعض غیر ملکی سفارت کاروں کو جموں و کشمیر کا دورہ کروایا تو یورپی یونین کے سفارت کاروں نے اس میں شامل ہونے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا تھا کہ انہیں اس طرح کے ”گائیڈیڈ ٹور" میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

گزشتہ برس بھارت کے دورے کے دوران جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بھی کشمیر کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ”غیر پائیدار" اور ”اچھے نہیں" ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد یورپی یونین میں اس معاملے پر بحث و مباحثے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔