شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کر دی گئی | حالات حاضرہ | DW | 09.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کر دی گئی

پاکستانی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن کے دو مرکزی رہنماؤں شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز پر قومی احتساب بیورو یا نیب کی ایک عدالت میں آج منگل نو اپریل کو بدعنوانی کے ایک مقدمے میں باقاعدہ فرد جرم عائد کر دی گئی۔

شہباز شریف

شہباز شریف

پاکستانی صوبہ پنجاب کے دارالحکومت سے ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق مسلم لیگ ن کے ان دونوں سیاستدانوں کے خلاف یہ فرد جرم نیب کی لاہور میں واقع ایک عدالت میں رمضان شوگر ملز سے متعلق ایک مقدمے میں عائد کی گئی۔

شہباز شریف اس وقت پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما ہیں جب کہ ان کے بیٹے حمزہ شہباز لاہور میں پنجاب کی صوبائی پارلیمان میں اپوزیشن کے قائد ہیں۔ فرد جرم میں الزام لگایا گیا ہے کہ ماضی میں جب شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے، تو انہوں نے مبینہ طور پر اپنے سرکاری اختیارات اور عوامی رقوم کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایک ایسی شوگر مل کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی، جو ان کے خاندان کی ملکیت تھی۔

Pakistan Hamza Sharif

حمزہ شہباز

آج منگل کے روز نیب کی عدالت میں ہونے والی ایک مختصر سماعت کے دوران اسی مقدمے میں شہباز شریف کے بیٹے اور پنجاب اسمبلی کے رکن حمزہ شہباز پر بھی فرد جرم عائد کر دی گئی۔

شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے اپنے خلاف عائد کیے گئے الزامات کو رد کیا ہے۔ عدالتی کارروائی کے اختتام پر انہیں گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ عدالت سے رخصتی کی اجازت دے دی گئی۔

پاکستان میں انسداد بدعنوانی کے ان قوانین کے مطابق، جن کے تحت قومی احتساب بیورو کی عدالتیں کام کرتی ہیں، اب ان دونوں اپوزیشن مسلم لیگی سیاستدانوں کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔  شہباز شریف ماضی میں متعدد مرتبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ وہ آخری مرتبہ اس عہدے پر 2013ء سے لے کر 2018ء تک فائز رہے تھے۔

شہباز شریف کے بڑے بھائی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سابق صدر نواز شریف کو بھی، جو ماضی میں تین مرتبہ ملکی وزیر اعظم رہ چکے ہیں، 2017ء میں بدعنوانی کے الزامات میں اس وقت نااہل قرار دے دیا گیا تھا، جب وہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز تھے۔ بعد میں نواز شریف کو سزائے قید بھی سنا دی گئی تھی۔ وہ اس وقت طبی وجوہات کی بناء پر محدود عرصے کے لیے ضمانت پر ہیں۔

م م / ا ب ا /  اے پی

DW.COM