شکیل آفریدی کا کیس، جسے بھلایا جا چکا ہے | حالات حاضرہ | DW | 16.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شکیل آفریدی کا کیس، جسے بھلایا جا چکا ہے

القاعدہ کے سابق سربراہ کو سن دو ہزار گیارہ میں ہلاک کر دیا گیا تھا لیکن مبینہ طور پر سی آئی اے کی مدد کرنے والا ڈاکٹر ابھی تک جیل میں ہے۔ شکیل آفریدی کے خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں عدالتی نظام پر اعتماد نہیں ہے۔

جمعرات 16 نومبر کو ایک قبائلی  عدالت میں سماعت سے پہلے شکیل آفریدی کے اہلخانہ کا شکایت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ڈاکٹر شکیل کئی برسوں سے غیرقانونی حراست میں ہیں اور ان کا مقدمہ منصفانہ طریقے سے نہیں چلایا جا رہا۔ شکیل آفریدی پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو مدد فراہم کی تھی۔

مئی دو ہزار بارہ میں شکیل آفریدی کو ایک پاکستانی عدالت نے غداری کے مقدمے میں تینتیس برس قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں شکیل آفریدی پر عسکریت پسندوں سے تعلق رکھنے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔ شکیل آفریدی سے صرف چند عہدیدار ہی ملاقات کر سکتے ہیں۔ آفریدی کو نہ تو اپنے اہلخانہ اور نہ ہی میڈیا سے بات چیت کرنے کی اجازت ہے۔

پاکستانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ شکیل آفریدی نے اسامہ بن لادن کا ڈی این اے حاصل کرنے کے لیے ایبٹ آباد میں پولیو کے قطرے پلانے کی ایک جعلی مہم شروع کی تھی۔ دو مئی دو ہزار گیارہ کو اسامہ بن لادن کو امریکی اسپیشل فورسز نے ایک خفیہ آپریشن کرتے ہوئے ہلاک کر دیا تھا۔ شکیل آفریدی کو اس وقت ایک خفیہ جیل میں رکھا گیا ہے۔

مبصرین کے مطابق شکیل آفریدی کو قید کی سزا دینا قانونی طور پر ٹھیک نہیں تھا، انہیں صرف سی آئی اے کی مدد کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ شکیل آفریدی کے کیس کا پاکستان میں جاری انسداد پولیو کی مہم پر بھی منفی اثر پڑا ہے۔ پاکستانی طالبان کا کہنا تھا کہ انسداد پولیو کی مہم غیر اسلامی ہے اور اس طرح امریکا خفیہ طور پر جاسوسی کروا رہا ہے۔ عسکریت پسندوں کی طرف سے ابھی تک پولیو کے قطرے پلانے والے درجنوں اہلکاروں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

شکیل آفریدی اور اہل خانہ کو شناختی کارڈز جاری کرنے سے انکار

ڈاکٹر شکیل آفریدی کے کزن قمر ندیم آفریدی کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ غیر منصفانہ مقدمے کی وجہ سے انہیں نہیں لگتا کہ شکیل آفریدی کو جلد رہائی مل پائے گی، ’’فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) کا قانون نو آبادیاتی دور کا ظالمانہ قانون ہے۔ اس نظام کے تحت اسلام آباد کی وفاقی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ بیوروکریٹس ججز کا کردار ادا کرتے ہیں۔ آفریدی کے کیس میں بھی حکومت کے متخب کردہ چند قبائلی لیڈر جج بھی ہیں۔ حکومت ابھی تک تقریباﹰ بیس سے بائیس عینی شاہدین لا چکی ہے لیکن ہمارے وکیل کو ان کا جائزہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔ اصل میں ہمارا وکیل کبھی ان سے مل ہی نہیں سکا۔ ان کے لکھے ہوئے بیانات ہمارے وکیل کے حوالے کر دیے جاتے ہیں۔‘‘

قمر ندیم آفریدی کا کہنا تھا کہ ان کے اہلخانہ کو بھی دھکمیوں کا سامنا ہے، ’’میں اس حوالے سے پرامید نہیں ہوں کی آفریدی کو انصاف ملے گا۔ اگر ایف سی آر کو ختم کیا جاتا ہے تو انصاف کی کچھ امید باقی ہے۔ اگر امریکا اور پاکستان کے تعلقات بہتر نہ ہوئے تو وہ شاید کئی برسوں یا پھر کئی عشروں تک جیل میں ہی رہے گا۔‘‘

شکیل آفریدی کو نہ رہا کریں گے نہ امریکا کے حوالے، پاکستانی وزیر

شکیل آفریدی کے وکیل دفاع لطیف آفریدی نے بھی ایسے ہی خدشات کا اظہار کیا ہے، ’’مجھے اس مقدمے کا مکمل ریکارڈ حاصل کرنے میں کئی برس لگے ہیں۔ جب بھی کیس کی سماعت ہوتی ہے تو اچانک پتا چلتا ہے کہ اسے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اس طرح کیس زیادہ سے زیادہ دو برس تک چلتے ہیں لیکن اب یوں لگتا ہے کہ ریاست اسے زیادہ سے زیادہ طول دینا چاہتی ہے۔‘‘

پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا بھی کہنا ہے کہ شکیل آفریدی کے مقدمے کی سماعت میں قانونی تضادات ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آفریدی کے خلاف پیش کیے گئے زیادہ تر شواہد پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں کی طرف سے جمع کیے گئے ہیں اور یہ کافی مضبوط نہیں ہیں۔ دوسری جانب حکومت ایسے دعوؤں کو مسترد کرتی ہے۔

’سیو ڈی چلڈرن‘ کیا پاکستانی مفادات کے خلاف مصروف عمل تھا؟

مارچ دو ہزار پندرہ میں آفریدی کے وکیل سمیع اللہ آفریدی کو قتل کر دیا گیا تھا اور طالبان کے دو دھڑوں نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ سن دو ہزار چودہ میں سمیع اللہ آفریدی نے شکایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے مؤکل سے جیل میں اچھا سلوک نہیں کیا جاتا۔

لطیف آفریدی کے مطابق اس وقت پاکستان کی سول حکومت اور فوج کے مابین ایک رسہ کشی جاری ہے اور ایسے میں بین الاقوامی مداخلت بھی انتہائی مشکل ہو جاتی ہے۔

DW.COM

اشتہار