شمالی کوریا کے قیام کے ستر برس، شاندار فوجی پریڈ کا اہتمام | حالات حاضرہ | DW | 09.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

شمالی کوریا کے قیام کے ستر برس، شاندار فوجی پریڈ کا اہتمام

شمالی کوریا کے قیام کے 70 برس مکمل ہونے پر دارالحکومت پیونگ یانگ میں شاندار فوجی پریڈ کا اہتمام کیا گیا لیکن اس دوران اس کیمونسٹ ملک نے اپنے جدید بیلسٹک میزائلوں کی نمائش نہیں کی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے بتایا ہے کہ شمالی کوریا کے سترہویں ’یوم آزادی‘ کے موقع پر اتوار کو منعقد ہوئی فوجی پریڈ میں ترقیاتی کاموں اور ملکی اقتصادیات میں بہتری کے لیے شہری کوششوں کو نمایاں کیا گیا۔

بین الاقوامی کیمونٹی میں یہ بات حیرت کی باعث بھی بنی کی اس شاندار فوجی پریڈ میں شمالی کوریا نے اپنے جدید اور متنازعہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں یا ICBM کی نمائش نہ کی۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق دو گھنٹے جاری رہنے والی اس فوجی پریڈ میں نصف سے زائد وقت اقتصادی ترقیاتی منصوبہ جات کی تشہیر پر صرف کیا گیا۔ تاہم اس پریڈ میں شمالی کوریائی دستوں، آرٹلری اور ٹینکوں نے بھی شرکت کی اور اس کیمونسٹ ریاست کے سربراہ کم جونگ ان کو سلامی پیش کی۔

اس موقع پر کم جونگ ان نے عوام سے خطاب بھی نہ کیا۔ یاد رہے کہ نو ستمبر سن 1948 میں شمالی کوریا دنیا کے نقشے پر ایک ریاست کے طور پر ابھرا تھا۔

ماضی میں شمالی کوریا میں منعقد ہونے والے ایسے ایونٹس میں عسکری طاقت کی بھرپور نمائش کی جاتی رہی ہے اور پیونگ یانگ دور تک مار کرنے کی صلاحیت رکھنے والے میزائلوں اور اپنی جوہری صلاحیتوں کی نمائش کرنے سے بھی نہیں کترائی ہے۔

تاہم اس مرتبہ یوم آزادی کی اس اہم تقریب میں ترقیاتی منصوبہ جات پر توجہ مرکوز کرنے کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اتوار کو ہونے والی اس فوجی پریڈ میں کم جونگ ان کی اقتصادی ترقی سے وابستہ حکمت عملی کی اہمیت اجاگر ہوئی ہے اور انہوں نے عالمی برادری کو ایک پیغام دیا ہے کہ وہ پیونگ یانگ اپنے عوام کی ترقی اور بہبود کی خاطر سمجھوتوں پر تیار ہے۔

کم جونگ ان جلد ہی جنوبی کوریائی صدر مون جے ان سے ملاقات کرنے والے ہیں، جس میں پیونگ یانگ کا متنازعہ جوہری پروگرام زیربحث آئے گا۔

سیول میں ڈی ڈبلیو کے نمائندے مارٹن فرٹِس کے مطابق شمالی کوریا کے قیام کے ستر برس مکمل ہونے پر ریاستی سطح پر جو خوشیاں منائی جا رہی ہیں، وہ  کم جونگ ان کے لیے کوئی زیادہ خوشی کا باعث نہیں کیونکہ وہ ملک کو اقتصادی ترقی کی راہوں پر گامزن کرنا چاہتے ہیں لیکن بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے ان کی یہ کوشش کارگر ثابت نہیں ہو رہی۔

امریکا کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے عہد کیا ہے کہ عالمی پابندیوں کے خاتمے سے قبل وہ خطے کو جوہری ہتھیاروں سے صاف بنائے گا۔ اسی تناظر میں اگست کے اوائل میں ہی امریکا نے شمالی کوریا کے دو اعلیٰ عہدیداروں پر نئی پابندیاں عائد کی تھیں۔

دوسری طرف کم جونگ ان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک بنانے کی خاطر ابتدائی اقدامات کر لیے ہیں، اس لیے پابندیاں ختم کرنے کے عمل میں تیزی لانا چاہیے۔

ع ب / ا ع / خبر رساں ادارے

DW.COM