شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خلاف تین اہم ممالک متفق | حالات حاضرہ | DW | 09.05.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خلاف تین اہم ممالک متفق

سن دو ہزار پندرہ کے بعد ہونے والے پہلے سہ فریقی مذاکرات میں چین، جاپان اور جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خلاف اتفاق کر لیا ہے۔ یہ تینوں ممالک مل کر شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکیں گے۔

جاپانی شہر ٹوکیو میں ہونے والے اس سہ فریقی اجلاس میں جاپانی وزیر اعظم شینزو آبے، جنوبی کوریائی صدر مون جے اِن اور چینی وزیر اعظم لی کیچیانگ شامل تھے۔ ان مذاکرات میں ایک ’علاقائی آزاد تجارتی معاہدہ‘ کرنے کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔

جنوبی کوریائی رہنما مون جے اِن نے اپنے مذاکراتی ساتھیوں کو اپنی اس تاریخی ملاقات کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا، جو انہوں نے ستائیس اپریل کو شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اُن سے کی تھی۔

چین سے مقابلہ، آسٹریلیا، امریکا، جاپان اور بھارت یکجا

اپنے افتتاحی کلمات میں جاپانی وزیر اعظم شینزو آبے نے چین اور جنوبی کوریا کی ان کوششوں کی بھی تعریف کی، جن کا مقصد شمالی کوریا کو مذاکرات کی میز پر لانا تھا۔

آبے کا مزید کہنا تھا کہ اسی تیزی کے ساتھ شمالی کوریا کے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکنے والے ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کے خاتمے کے لیے بھی کوششیں کی جانا چاہییں۔

جاپانی وزیر اعظم کے مطابق اگر شمالی کوریا کے ساتھ جوہری، میزائل اور جاپانی شہریوں کے اغوا کے مسائل حل کر لیے جاتے ہیں، تو ان کا ملک شمالی کوریا کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کر لے گا۔

ہائیڈروجن بم کا کامیاب تجربہ کر لیا، شمالی کوریا کا دعویٰ

شمالی کوریا نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے ایک عشرہ پہلے تیرہ جاپانیوں کو جاسوسی کی تربیت فراہم کرنے کی بنیاد پر اغوا کیا تھا۔ ان میں سے پانچ واپس جاپان پہنچ چکے ہیں۔

ایک جاپانی عہدیدار کے مطابق اس ملاقات میں ایک آزاد تجارتی معاہدہ کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا، جس کا مقصد علاقائی سطح پر اور جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کے ساتھ بھی تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت پر ہو رہے ہیں، جب شمالی کوریا کے حوالے سے خطے میں سفارتی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔

چینی وزیر اعظم گزشتہ روز آٹھ برس بعد پہلی مرتبہ جاپان پہنچے تھے، جہاں جاپانی بادشاہ آکی ہیٹو نے ایک ملاقات کے لیے انہیں شاہی محل میں بھی خوش آمدید کہا تھا۔ رواں برس چین اور جاپان اپنے دوستی کے معاہدے کا چالیس سالہ جشن بھی منائیں گے۔ تاہم ماضی کی جنگی تلخیوں کی وجہ سے ان دونوں ممالک کے تعلقات ابھی تک قدرے پیچیدہ اور کچھ مشکلات کا شکار ہیں۔

ا ا / م م 

DW.COM