شمالی کوریا کی طرف سے مزید میزائل تجربات | حالات حاضرہ | DW | 10.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

شمالی کوریا کی طرف سے مزید میزائل تجربات

شمالی کوریا کے ہفتے کے روز کیے جانے والے بیلسٹک میزائل تجریات کی تصدیق جنوبی کوریا نے کی ہے۔ دوسری جانب جنوبی کوریا اور جاپان کے درمیان تجارتی جنگ کا تنازعہ شدید ہوتا جا رہا ہے۔

جنوبی کوریا کے دفاعی حکام نے بتایا ہے کہ شمالی کوریا نے کم فاصلے تک مار کرنے والے دو بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کیے ہیں۔ آج ہفتے کے روز یہ بیلسٹک میزائل شمال مشرقی شہر ہام ہونگ کے قریب سے سمندر میں داغے گئے۔ یہ میزائل جزیرہ نما کوریا اور جاپان کے درمیانی سمندری علاقے میں گرے۔

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران شمالی کوریا کی جانب سے کم فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے بیلسٹک میزائل کے تجربات کا یہ پانچواں راؤنڈ ہے۔ شمالی کوریا کے بعض حلقوں کے مطابق حالیہ تجربات امریکا اور جنوبی کوریا کی سالانہ فوجی مشقوں کے شروع ہونے کے خلاف ردعمل کے طور پر کیے گئے ہیں۔

شمالی کوریا نے یہ تجربات ایک ایسے وقت میں کیے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چیئرمین کم جونگ ان کا ایک خط موصول ہوا ہے۔ ٹرمپ نے اس خط کے مندرجات کو انتہائی مثبت قرار دیتے ہوئے اسے ایک خوبصورت تحریر قرار دیا ہے۔

Nordkorea feuert neue taktische Lenkflugkörper ab (picture-alliance/Yonhapnews Agency)

شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ اُن میزائل تجربات کی کامیابی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے

اُدھر ٹوکیو اور سیئول حکومتوں کے درمیان تجارتی جنگ کی صورت شدید تر ہوتی جا رہی ہے۔ جنوبی کوریا نے دھمکی دی ہے کہ وہ جاپان کے ساتھ تجارتی جنگ کے تناظر میں خفیہ معلومات کے تبادلے کے کثیر الملکی معاہدے کو ختم کر سکتا ہے۔ یہ معاہدہ امریکا اور اُس کے اتحادیوں کے درمیان کئی برسوں کے مذاکرات کے بعد طے پایا تھا۔

اس معاہدے پر عمل درآمد نومبر سن 2016 سے شروع ہے۔ اس معاہدے میں ہر سال خود بخود توسیع ہو جاتی ہے تاوقتیکہ کوئی ملک اس سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان نہ کر دے۔ علیحدگی اختیار کرنے کی حتمی تاریخ چوبیس اگست مقرر ہے۔

جاپانی حکومت کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کے ساتھ مشکل تعلقات کے باوجود وہ اس معاہدے کو برقرار رکھنے کے حق میں ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا کے درمیان تجارتی تنازعے کی ابتدا دوسری عالمی جنگ کے دوران جنوبی کوریائی باشندوں کی جبری مشقت کے حوالے سے زر تاوان کا مطالبہ ہے۔

ع ح، ع ب ⁄ ڈی ڈبلیو، نیوز ایجنسیاں

DW.COM