شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل تجربہ بظاہر ناکام: جنوبی کوریا | حالات حاضرہ | DW | 15.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل تجربہ بظاہر ناکام: جنوبی کوریا

جنوبی کوریا اور امریکی ذرائع نے دعوٰی کیا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے اپنے بانی کم سونگ کی سالگرہ کے موقع پر کیا جانے والا بیلسٹک میزائل کا تجربہ بظاہر ناکام ہو گیا ہے۔

اس بیان میں کیا گیا کہ پیونگ یانگ کی جانب سے ملک کے مشرقی ساحل سے اس میزائل کو داغنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق یہ تجربہ خصوصی طور پر شمالی کوریا کے بانی کم سونگ کی سالگرہ کی تقریب کے موقع پر کیا گیا تھا۔

جنوبی کوریا کی نیوز ایجنسی یونہاپ کے مطابق جو تجربہ ناکام ہوا ہے، وہ درمیانے درجے کے میزائل کا تھا اور ایک دن اس میزائل کی صلاحیت ایشیا میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی ہو سکتی ہے۔ امریکا اور جنوبی کوریا کی جانب سے اس ’ناکام تجربے‘ کے بارے میں کوئی زیادہ معلومات تو فراہم نہیں کی گئی ہیں لیکن اگر ان رپورٹوں کے تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ شمالی کوریا کے لیے شرمندگی کا باعث بنیں گی۔

حال ہی میں جنوبی کوریا اور امریکا نے مل کر سالانہ جنگی مشقیں کی تھیں، جس کے جواب میں شمالی کوریا نے بھی جنگی مشقوں اور میزائلوں کے تجربات کرنا شروع کر دیے تھے۔ شمالی کوریا کی فوج نے اپنی جنگی مشقوں کو ایک ’حملے کی ریہرسل قرار دیا‘ تھا۔ اس سے قبل شمالی کوریا کی جانب سے چوتھا جوہری تجربہ بھی کیا گیا تھا، جس کے جواب میں اقوام متحدہ نے اس ملک کے خلاف مزید پابندیاں عائد کر دی تھیں جبکہ شمالی کوریا نے ان پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ان کے عائد ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد مزید میزائل تجربات کر ڈالے تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جوہری سرگرمیاں اور میزائل تجربات جنوبی کوریا کے لیڈر کِم یونگ اُن کی جماعت کی سالانہ میٹینگ کی تیاریاں بھی ہو سکتی ہیں۔ حکمران جماعت کا یہ اجلاس آئندہ ماہ ہو گا اور کم یونگ ان اس اجلاس کو اپنی مطلق العنان حکمرانی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی کوریا کے سربراہ اس اجلاس میں اپنے جوہری اور میزائل تجربات کی کامیابیوں کا بتائیں اور عوام کی توجہ ملک میں جاری معاشی بحران سے ہٹائے جانے کی کوشش کی جائے گی۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیوز ایجنسی اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اسٹریٹیجک کمانڈ سسٹم نے ایک ناکام راکٹ تجربے کا پتا چلایا ہے۔