شمالی کوریا کا آبدوز سے لانچ کیے جانے والے بیلسٹک میزائل کا ممکنہ تجربہ | حالات حاضرہ | DW | 07.05.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

شمالی کوریا کا آبدوز سے لانچ کیے جانے والے بیلسٹک میزائل کا ممکنہ تجربہ

شمالی کوریا نے عالمی پابندیوں کی خلاف ورزیاں جاری رکھتے ہوئے مبینہ طور پر ایک نئے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ جنوبی کوریا کے مطابق آبدوز سے لانچ کیے جانے والا یہ میزائل جوہری وار ہیڈ سے لیس ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پیانگ یانگ نے بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود میزائل تجربات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

پیانگ یانگ نے بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود میزائل تجربات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

جنوبی کوریا  کی فوج نے بتایا ہے کہ شمالی کوریا  نے سمندر میں ایک شارٹ رینج بیلسٹک میزائل فائر کیا ہے۔ جنوبی کوریائی فوج کے مطابق شمالی کوریا نے ممکنہ طور پر آبدوز سے لانچ کیے جانے والا بیلسٹک میزائل (ایس ایل ایم بی) ہفتہ سات مئی کو عالمی وقت صبح پانچ بج کر سات منٹ پر اپنے شمالی شہر سنپو کے قریب مشرقی ساحل سے فائر کیا تھا۔

سنپو میں عموماﹰ پیونگ یانگ کی آبدوزیں اور یلسٹک میزائلوں کے تجربے  کے لیے دیگر ساز و سامان موجود ہوتا ہے۔

جاپان نے تازہ تجربے کی تصدیق کر دی

جاپان کی وزارت دفاع نے بھی پیونگ یانگ کی جانب سے بیلسٹک میزائل فائر کرنے کا بتایا ہے۔ جاپانی کوسٹ گارڈ نے مزید کہا کہ مذکورہ میزائل پانیوں میں تقریباﹰ پانچ بج کر پچیس منٹ پر گرا تھا۔

جاپانی نشریاتی ادارے این ایچ کے نے حکومتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میزائل جاپان کے خصوصی اکنامک زون کے باہر لینڈ ہوا تھا۔

یہ تازہ تجربہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا جب اس سے تین روز قبل ہی شمالی کوریا نے اپنے دارالحکومت کے ضلع سونان سے بھی ايک مشتبہ بیلسٹک میزائل فائر کیا تھا۔ رواں سال میں پیونگ یانگ کا یہ پندرہواں میزائل لانچ ہے۔

دريں اثناء کچھ روز بعد جنوبی کوریا کے نومنتخب صدر یون سوک یئول اپنے عہدے کا حلف اٹھانے والے ہیں۔ یون نے دس مارچ کو صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی اور انہوں نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام  کے خلاف سخت ترین اقدامات کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ اس امر کے لیے وہ امریکا کے ساتھ مل کر کام کرنے کا اشارہ بھی دے چکے ہیں۔ امریکی صدر جو بائیڈن کی بھی جنوبی کوریا کے نو منتخب صدر سے جلد ملاقات متوقع ہے۔

شمالی کوريا کے جارحانہ میزائل تجربے

جاپان اور امریکا نے گزشتہ ہفتے کیے گئے میزائل تجربوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔ واشنگٹن حکومت نے اس بات پر زور دیا تھا کہ شمالی کوریا اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل  کی اس قرارداد کی متعدد مرتبہ خلاف ورزی کر رہا ہے، جس کے تحت اس پر بیلسٹک میزائل اور جوہری تجربے  کرنے کی پابندی عائد ہے۔

امریکا کی جانب سے دو ماہ قبل ہی شمالی کوریا کی کئی شخصیات اور اداروں کے ساتھ ساتھ اس کے اتحادی ملک روس اور چین پر نئی پابندیاں عائد کی گئی تھیں تاکہ شمالی کوریا کے میزائل پروگرام کو روکا جا سکے۔

یہ پابندیاں شمالی کوریا کے اس دعوے کے جواب میں نافذ کی گئی تھیں کہ اس نے مارچ میں اب تک کے اپنے طاقتور ترین بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM)  کو فائر کیا ہے۔ بعد ازاں ماہرین نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ میزائل کم و بیش اسی آئی سی بی ایم جیسا میزائل تھا، جو اُس نے سن 2017 میں فائر کیا تھا۔

ع آ / ع س (روئٹرز، اے پی)

DW.COM

Audios and videos on the topic