شمالی کوریا میں کورونا وائرس سے پہلی موت | حالات حاضرہ | DW | 13.05.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

شمالی کوریا میں کورونا وائرس سے پہلی موت

شمالی کوریا نے کووڈ انفیکشن کی تصدیق کے ایک دن بعد اب پہلی مرتبہ چھ افراد کے ''بخار‘‘ سے موت کی خبر دی ہے۔ ایک لاکھ اسی ہزار سے زائد افراد کا علاج بھی چل رہا ہے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے نے بتایا کہ حکام کی جانب سے ملک میں کووڈ انیس انفیکشن کا پہلی مرتبہ اعتراف کرنے کے ایک دن بعد جمعے کے روز کہا کہ چھ افراد کی ’’بخار‘‘ کی وجہ سے موت ہوگئی۔ ان میں ایک شخص کووڈ پازیٹیو پایا گیا تھا۔

کے سی این اے نے مزید بتایا، ''ایک بخار، جو اپریل کے اواخر سے پورے ملک میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے، کی اب تک شناخت نہیں ہو سکی ہے۔‘‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جمعرات کے روز اٹھارہ ہزار لوگوں میں بخار کی علامات ملنے کے بعد 187,800 افراد کو علاج کے لیے الگ تھلگ کردیا گیا ہے۔

ملک گیر لاک ڈاون

سرکاری میڈیا نے جمعے کے روز بتایا کہ صدر کم جونگ ان نے وبائی امراض کی روک تھام کے قومی مرکز کا جمعے کے روز دورہ کیا اور کووڈ انیس کی ملک گیر صورت حال کی معلومات حاصل کیں۔

کے سی این اے کے مطابق صدر کم جونگ ان کا کہنا تھا، ''ہماری پارٹی کے سامنے یہ سب سے بڑا چیلنج ہے اور ذمہ داری ہے کہ عوامی صحت کے اس بحران پر کس طرح جلد از جلد قابو پایا جائے۔‘‘

دنیا میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد سے پہلی مرتبہ شمالی کوریا نے ایک دن قبل ہی جمعرات کو تسلیم کیا تھا کہ ملک میں کووڈ انفیکشن کا پتہ چلا ہے۔ اس کے بعد سے ملک گیر لاک ڈاون کا اعلان کردیا گیا۔

کووڈ انفیکشن کی موجودگی کے اعتراف سے پہلے تک پیانگ یانگ یہ دعوی کرتا رہا تھا کہ وہ اس عالمی وبا کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے میں کامیاب رہا ہے۔ حالانکہ ماہرین اس دعوے پر شبہات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ کسی بڑی وبا پھیلنے کی صورت میں شمالی کوریا کمزور ہلیتھ انفرااسٹرکچر کی وجہ سے اس پر قابو پانے کا متحمل نہیں ہے۔ جب کہ پچیس ملین کی آبادی نے ویکسین بھی نہیں لیے ہیں۔

ویکسین کی قلت

شمالی کوریا نے کووڈ انیس کے عالمی ویکسین پروگرام کوویکس اور چین کے سائینوویک بایو ٹیک سے ویکسین لینے سے منع کردیا تھا۔

ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شمالی کوریا کو فی الحال ویکسین فراہم کرنے کا امریکہ کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ انہوں نے تاہم کہا کہ واشنگٹن شمالی کوریا کے عوام کو انسانی امداد فراہم کرنے کی بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔

ج ا / ص ز (اے ایف پی، روئٹرز)

DW.COM