شمالی وزیرستان میں فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی | حالات حاضرہ | DW | 26.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

شمالی وزیرستان میں فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی

شمالی وزیرستان میں ایک واقعے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ واقعہ تب پیش آیا، جب پشتون تحفظ تحریک کے رہنماؤں علی وزیر اور محسن داوڑ نے اپنے حامیوں کے ہم راہ ایک سکیورٹی چیک پوسٹ عبور کرنے کی کوشش کی۔

شمالی وزیرستان کے علاقہ دتہ خیل میں ایک گرینڈ جرگے کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں علاقے کے لوگوں کے علاوہ پی ٹی ایم کے رہنما اور قومی اسمبلی کے ممبران محسن داوڑ اور علی وزیر بھی شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ راستے میں آرمی چیک پوسٹ پر فائرنگ کا ناخوش گوار واقعہ پیش آیا جس میں پی ٹی ایم کے 45 اراکین زخمی ہوئے ہیں جب کہ فوج کے پانچ جوانوں کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی ہے۔ پی ٹی ایم کے عینی شاہدین کے مطابق پی ٹی ایم کے پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ علی وزیر سمیت 20 ارکان کو سکیورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا ہے۔

پاکستانی پارلیمان اور پشتون تحفظ موومنٹ

پی ٹی ایم کے خلاف ایکشن لیا  جا سکتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دتہ خیل شمالی وزیرستان کا وہ علاقہ ہیں جہاں ملٹری آپریشن سے پہلے سب سے زیادہ ڈرون حملے ہوتے رہے ہیں۔ پی ٹی ایم اور شمالی وزیرستان کے عوام نے دتہ خیل کے بویا مقام پر کل سے دھرنا دیا ہوا ہے۔ دھرنے کے شرکاء کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں پر ہفتے کے روز چھاپے مارے گئے،  جس کے بعد چند افراد کو سکیورٹی فورسز کے اہلکار اپنے ساتھ لے گئے۔ ان چھاپوں سے علاقے کے لوگوں خاص کر خواتین اور بچوں میں خوف و ہراس پیدا ہوا۔  محسن داوڑ شمالی وزرستان کے اسی علاقہ سے آزاد امیدوار کے حیثیت سے قومی اسمبلی کے ممبر ہیں اور وہ علی وزیر کے ہمراہ اسی دھرنے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے کہ راستے میں یہ ناخوش گوار واقعہ رونما ہوا۔

محسن داوڑ نے محفوظ مقام سے مقامی صحافی عدنان بیٹنی کو فون پر بتایا کہ  فائرنگ کے واقعہ میں وہ خود معمولی زخمی ہوئے ہیں لیکن اسے اپنے ساتھیوں اور عوام کی فکر ہے۔

عدنان بیٹنی نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’محسن داوڑ نے  مجھے فون پر بتایا کہ انہوں نے خود دیکھا کہ فائرنگ سے 35  مظاہرین زخمی ہوئے جب کہ علی وزیر کو ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا۔‘‘

میران شاہ ہسپتال ذرائع کے مطابق تا حال آٹھ زخمیوں کو لایا گیا ہے، جن کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہیں جب کہ بنوں ہسپتال جو کہ دھرنے کے مقام سے تقریباً 45 منٹ کے فاصلے پر واقع ہے کو اب تک پانچ زخمی لائے گئے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق دیگر زخمیوں کو لانے میں دشواری اس لیے پیش آ رہی کیونکہ وہاں نہ تو گاڑیاں تھیں اور نہ ہی عام عوام جا سکتے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق سکیورٹی فورسز نے لوگوں پر اس وقت فائرنگ شروع کی جب لوگ سکیورٹی چیک پوسٹ کراس کر رہے تھے جبکہ دو نجی ٹی وی چینلز کے رپورٹس کے مطابق  محسن داوڑ اور ان کے ساتھیوں نے سکیورٹی فورسز کے چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔

پشتون تحفظ تحریک کے سربراہ منظور پشتین سے رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔ منظور پشتین نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے غیر مسلح عوام پر حملہ کیا، جس میں محسن داوڑ سمیت درجنوں لوگ زخمی ہوئے جبکہ علی وزیر اور ڈاکٹر گل عالم کو گرفتار کیا گیا۔

ویڈیو دیکھیے 15:46

’’ پی ٹی ایم کے بارے میں میڈیا بالکل خاموش ہے، کیا مارشل لاء آ گیا؟‘‘

اس واقعے کے فوراً بعد ہی سوشل میڈیا پر پرانی تصاویر اور ویڈیوز شئیر ہونا شروع ہو گئیں۔ پاکستان کے نامور صحافی اور اینکر حامد میر کے نام سے چلنے والے سوشل میڈیا اکاونٹ سے سکیورٹی فورسز کے خلاف دو خبریں اور تجزیہ شئیر کیے گئے لیکن ڈی ڈبلیو کے ساتھ بات چیت میں حامد میر نے ان اکاونٹس کو فیک قرار دیا۔ حامد میر کے بقول انہیں خود پتہ نہیں کہ ایسے واقعات میں لوگ ان کے اکاونٹس سے جعلی خبریں کیوں شیئر کرتے ہیں۔

ثنا اعجاز جو کہ پی ٹی ایم کے کور کمیٹی کی رکن ہیں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ہمارے نہتے مظاہرین پر تشدد ہوا ہے اور نجی ٹی وی چینل ہم پر ہی الزام لگا رہے ہیں کہ پی ٹی ایم والوں نے چیک پوسٹ پر حملہ کیا ہے۔ ویسے تو میڈیا نے ہمیں مکمل بلیک آؤٹ کیا ہے لیکن پھر بھی ہمارے خلاف غلط خبریں چلانے میں دیر نہیں کرتے اور شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔

ثنا اعجاز نے پی ٹی ایم کے ارکان کو پر امن رہنے اور غلط تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے سے منع کیا کیونکہ اس کے مطابق ایسا کرنے سے اس کی تحریک سے لوگوں کا اعتماد ختم ہو گا اور  جس سے تحریک کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

پی ٹی ایم رہنما علی وزیر کے خلاف جنوبی وزیرستان میں ریاست مخالف نعروں پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے جبکہ منظور پشتین اور ثنا اعجاز کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہیں۔ پی ٹی ایم کا کارکن یا سپورٹر ہونے میں بھی لوگ خوف محسوس کرتے ہیں اور بہت ہی کم لوگ کھلے عام پی ٹی ایم کے حق میں بات کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی نوجوانوں میں پی ٹی ایم مقبول ہے اور عام افراد پی ٹی ایم کے رہنماوں سے دلی لگاؤ بھی رکھتے ہیں۔

 

DW.COM

Audios and videos on the topic