شمالی وزیرستان: دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اضافہ، پاکستانی فوج | حالات حاضرہ | DW | 01.06.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

شمالی وزیرستان: دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اضافہ، پاکستانی فوج

پاکستانی فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ملک کے شمال مغربی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں افغان سرحد کے قریب دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایک فوجی ہفتے کے روز ایک ریموٹ کنٹرول بم کا نشانہ بنا۔ بیان کے مطابق حالیہ کچھ عرصے میں دہشت گردوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں پانچ فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ فوجی بیان میں کہا گیا ہے، ''شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔‘‘

افغان سرحد کے قریب عسکریت پسندوں کا پاکستانی فوجیوں پر حملہ

خودکش حملے کا ماسٹرمائنڈ مار دیا گیا، بھارتی فوج کا دعویٰ

اس بیان میں مزید کہا گیا کہ پچھلے ایک ماہ میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں پاکستان کے پانچ فوجی ہلاک جب کہ 31 زخمی ہو چکے ہیں۔

شمالی وزیرستان پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کا ایک قبائلی ضلع ہے، جو افغان سرحد سے متصل ہے۔ یہ علاقہ کبھی عسکریت پسندوں کا ایک مضبوط گڑھ ہوا کرتا تھا، جہاں القاعدہ اور حقانی نیٹ ورک جیسے دہشت گرد گروہ پناہ لیتے تھے۔ پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ سن 2014ء میں ایک بڑے عسکری آپریشن کے ذریعے اس علاقے سے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا گیا تھا۔

25 مئی کو اس علاقے میں عسکریت پسندی کے الزام میں چند افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، تاہم اس پر علاقے میں مظاہرے دیکھے گئے تھے جب کہ پشتون علاقوں میں متحرک پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے بھی اس پر اعتراض کیا گیا تھا۔

اسی تناظر میں ایک چیک پوسٹ کے قریب پشتون تحفظ موومنٹ کے مظاہرین اور فوج کے درمیان پیش آنے والے ایک ناخوشگوار واقعے میں فوجیوں کی فائرنگ کے نتیجے میں کم ازکم چار مظاہرین ہلاک جب کہ درجنوں زخمی بھی ہو گئے تھے۔ اسی واقعے کے تناظر میں شمالی اور جنوبی وزیرستان سے منتخب ہونے والے پاکستانی قومی اسمبلی کے دو اراکین محسن داوڑ اور علی وزیر کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

ع ت، م م (اے ایف پی، اے پی)

DW.COM