شمالی وزیرستان: بم دھماکے میں چار پاکستانی فوجی ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 08.06.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

شمالی وزیرستان: بم دھماکے میں چار پاکستانی فوجی ہلاک

بم سڑک کے کنارے نصب تھا اور اس کا نشانہ ایک فوجی گاڑی تھی۔ حملے کا شکار ہونے والوں میں ایک لیفٹیننٹ کرنل، ایک میجر، ایک کیپٹن اور ایک سپاہی شامل ہیں۔

جمعے کو رات گئے جاری ہونے والے فوج کے ایک بیان  کے مطابق سکیورٹی اہلکار خاڑ قمر کے علاقے میں ایک سڑک سے گزر رہے تھے، جب ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ) آئی ایس پر آر ) کے مطابق پچھلے ایک ماہ کے دوران عسکریت پسندوں کے حملوں میں دس فوجی ہلاک اور پیینتیس زخمی ہو چکے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے فوجیوں کی ہلاکتوں پر اظہار افسوس کیا۔ انہوں نے فوج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ چند دشمن عناصر قبائلی علاقوں کے غیور عوام کو ورغلا رہے ہیں لیکن ریاست ان عناصر کو امن میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔

خاڑ قمر وہی علاقہ ہے، جہاں حالیہ دنوں میں پاکستانی فوج اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے حمایتوں کے درمیان کشیدگی رہی ہے۔ چھبیس مئی کے روز  پی ٹی ایم اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان  تصادم میں تیرہ افراد ہلاک جبکہ پینتیس کے لگ بھگ زخمی ہوئے تھے، جن میں فوجی بھی شامل تھے۔ ان واقعات کے بعد سے حکومت نے پی ٹی ایم کے دو ارکان اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیرکوگرفتار کر رکھا ہے۔         

تاہم ان تازہ ہلاکتوں کا بظاہر اس صورتحال سے کوئی تعلق نہیں بتایا گیا۔  پی ٹی ایم کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے عدم تشدد کی جدوجہد کی حامی ہے اور ہر طرح کی دہشت گردی سے نجات کے لئے سرگرم ہے۔

دوسری جانب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ایک ترجمان  محمد خراسانی  نے ذرائع ابلاغ کو جاری ایک بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ش ج / ا ا ( روئٹرز، ڈی پی اے)