شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان مذاکرات | حالات حاضرہ | DW | 09.06.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان مذاکرات

جزیرہ نما کوریا کی دو حریف ریاستیں شمالی اور جنوبی کوریا کے حکام کے درمیان کئی برسوں کے بعد آج اتوار کے روز براہ راست مذاکرات کا آغاز ہوا ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں کمی لانا ہے۔

دونوں ریاستوں کے اہلکاروں کے درمیان مذاکرات کا آغاز آج اتوار نو جون کو مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے سرحدی گاؤں پ‍‍انمنجوم میں ہوا۔ ان ابتدائی مذاکرات کا مقصد وزارتی سطح کے مذاکرات کی تیاری ہے، جو بدھ 12 جون کو جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ہونا ہیں۔

ان مذاکرات کے ایجنڈے پر معطل شدہ تجارتی تعلقات کی بحالی، کائیسونگ کے مشترکہ صنعتی کمپلیکس کو دوبارہ کھولنے کے علاوہ دونوں ملکوں میں بٹے ہوئے خاندانوں کے ارکان کی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کرنے اور جنوبی کوریا کے سیاحوں کے لیے شمالی کوریا کے پہاڑی سیاحتی مقام تک رسائی جیسے معاملات بھی شامل ہیں۔ دونوں کوریائی ریاستوں کے درمیان تناؤ کے باعث شمالی کوریا نے کائیسونگ صنعتی کمپلیکس کو رواں برس اپریل میں بند کر دیا تھا۔

پیونگ یانگ جنوبی کوریا کے سیاحوں کے لیے اپنے پہاڑی تفریحی مقام ماؤنٹ کُمگانگ کے سیاحتی سلسلے کی بحالی کا معاملہ بھی زیر غور لانے کا خواہاں ہے۔

دونوں ریاستوں کے اہلکاروں کے درمیان مذاکرات کا آغاز سرحدی گاؤں پ‍‍انمنجوم میں ہوا

دونوں ریاستوں کے اہلکاروں کے درمیان مذاکرات کا آغاز سرحدی گاؤں پ‍‍انمنجوم میں ہوا

شمالی کوریا نے جمعرات چھ جون کو ان مذاکرات کی دعوت دی تھی اور اس کے لیے کائیسونگ کے مشترکہ صنعتی زون کا مقام تجویز کیا تھا۔ جنوبی کوریا نے یہ دعوت قبول کرتے ہوئے سرحدی قصبے پانمونجوم میں مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی۔ شمالی کوریا کی طرف سے ایٹمی جنگ کی دھمکیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات پر آمادگی کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا۔

تعلقات میں بہتری کی خواہش کا اشارہ دیتے ہوئے شمالی کوریا نے جمہ سات جون کو جنوبی کوریا کے ساتھ سرکاری ہاٹ لائن بھی بحال کر دی، جو اس نے رواں برس مارچ میں بند کر دی ہے۔

دونوں کوریائی ہمسایہ ریاستوں کے درمیان قبل ازیں ابتدائی سطح کے براہ مذاکرات فروری 2011ء میں ہوئے تھے جبکہ وزارتی سطح کے مذاکرات 2007ء کے بعد سے معطل ہیں۔

aba/ng (AFP)