شدید برف باری اور بارشوں سے پاکستان اور افغانستان میں ہلاکتیں | حالات حاضرہ | DW | 13.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

شدید برف باری اور بارشوں سے پاکستان اور افغانستان میں ہلاکتیں

 افغانستان اور پاکستان اس وقت شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔  پیر کے روز حکام نے بتایا کہ بارشوں، برف باری اور سیلاب سے پاکستان اور افغانستان کے کئی علاقوں میں اب تک تینتالیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ 

حکام نے متاثرہ علاقوں، خاص طور سے سڑکوں اور گزرگاہوں کو کھولنے اور صاف کرنے کے ساتھ ساتھ  شہریوں کو محفوظ مقامات منتقل کرنے  کے احکامات جاری کیے تھے اور امدادی ٹیمیں اپنے کام انجام دے رہی ہیں۔ 
   اس شدید موسم کے نتیجے میں پاکستان میں پچیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ شدید موسم سے صوبہ بلوچستان کے جنوب مغربی علاقے کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے والے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے چیف عمران زرکون کا کہنا تھا کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں میں شدید برف باری کے نتیجے میں گھروں کی چھتیں گرنے سے چودہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ شدید برف بارش نے کوئٹہ اور صوبے کی کئی سڑکوں کو بلاک کر دیا ہے۔ بلوچستان کے کئی علاقے چھ فٹ برف کے نیچے دبے ہیں۔ 
عبدالستار جو کہ این ڈی ایم اے کی ہنگامی سروس سے منسلک ہیں کا کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب کے مشرقی حصوں میں تیز بارشوں کی وجہ سے مکانات کی چھتیں منہدم ہوگئیں اور گیارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

Afghanistan Winter Kälte (picture-alliance/ dpa)

افغانستان شدید سردی کی لپیٹ میں۔

افغانستان میں شدید موسم کی وجہ سے خواتین اور بچوں سمیت اٹھارہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ قدرتی آفات کی وزارت کے پریس آفیسر حبیب اللہ شیخانی کے مطابق افغانستان میں شدید برف باری اور برفانی تودے گرنے کے خطرے کے پیش نظر ملک کی اکثر شاہراہیں بند پڑی ہیں۔  صوبائی حکام کے مطابق صوبہ قندھار میں آٹھ افراد شدید سردی سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ مغربی صوبہ ہرات میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد سمیت سات لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

  اسی طرح صوبہ ہلمند میں تین ہلاکتیں شدید سردی کے سبب ہوئی ہیں۔ 

افغانستان کے دارلحکومت کابل میں درجہ حرارت منفی پندرہ درجے تک گر چکا ہے۔ لوگ ڈرائیونگ کرنے سے قاصر ہیں اور وہ سڑکوں پر جمی برف کی وجہ سے اپنے کام پر بھی نہیں جا پا رہے۔ 

ع ش۔ ک م۔ اے پی             

DW.COM