’شدت پسندی سے محفوظ نہیں رہ سکو گے‘ | معاشرہ | DW | 10.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’شدت پسندی سے محفوظ نہیں رہ سکو گے‘

دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے ایک اہم رہنما اپنے ایک انٹریو میں خود کو لیبیا میں اس تنظیم کا سربراہ قرار دیا ہے۔ اس کے بقول یہ شدت پسند گروہ لیبیا میں تیزی سے زور پکڑتا جا رہا ہے۔

عبدالقدر النجدی نے اپنے ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ اسے لیبیا کے امیر کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس کے بقول وہ دعا کر رہا ہے کہ لیبیا اسلامک اسٹیٹ کی خلافت میں ہراول دستے کا کردار ادا کرے۔ النجدی کا یہ انٹرویو آئی ایس کے جریدے النبا نے شائع کیا ہے، جسے شدت پسندی پر نظر رکھنے والے ایک امریکی گروپ ’ SITE ‘ نے عام کیا ہے۔ اس انٹرویو کے دوران النجدی نے پڑوسی ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود کو شدت پسندوں سے محفوظ نہیں رکھ سکیں گے۔ ’’ تم لوگ خود کو بموں سے محفوظ رکھنے کے لیے بانس سے بنی ہوئی ڈھال استعمال کر رہے ہو اور سیلاب میں ڈوبنے سے بچنے کے لیے لکڑی کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کا سہارہ لے رہے ہو۔‘‘

اسی ہفتے کے دوران تیونس کی لیبیا سے ملنے والی سرحد پر شدت پسندوں کے حملے میں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری آئی ایس پر ڈالی جا رہی ہے۔ آئی ایس لیبیا میں افراتفری اور سلامتی کی ناقص صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے۔ 2011ء میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اس ملک میں مختلف باغی اور شدت پسند گروپ متحرک ہیں۔

مغربی ممالک بار بار اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ لیبیا اسلامک اسٹیٹ کا گڑھ بن سکتا ہے۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ تنازعات کے شکار اس ملک میں آئی ایس کے جنگجوؤں کی تعداد چھ ہزار کے لگ بھگ ہے۔

النجدی کے مطابق لیبیا میں اسلامک اسٹیٹ ابھی اپنے ابتدائی مراحل سے گزر رہی ہے لیکن اس کا دائرہ اور اثر و رسوخ مسلسل وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ ’’ ہم اپنے زیر قبضہ علاقوں میں شرعی قوانین نافذ کر رہے ہیں بالکل اسی طرح، جس طرح عراق و شام میں کیا گیا ہے‘‘۔ وہ مزید کہتا ہے کہ لیبیا کا صوبہ مجاہدین اور مظلوموں کاایک نیا مرکز بن چکا ہے، ’’مغربی ممالک کی تمام تر کوششوں کے باوجود یہاں شدت پسندوں کی ہجرت جاری ہے۔‘‘ اس نے مزید بتایا کہ وہ لوگ شام و عراق میں موجود مرکزی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔

اشتہار