شام کے مختلف شہروں میں دھماکے، کم از کم اڑتالیس افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 05.09.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام کے مختلف شہروں میں دھماکے، کم از کم اڑتالیس افراد ہلاک

شام میں سلسلہ وار بم دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم اڑتالیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ دھماکے حکومتی فورسز کے زیر انتظام علاقوں طرطوس اورحمص کے علاوہ کرد باغیوں کے زیر قبضہ شہر حسکہ میں پیر کے روز کیے گئے۔

سرکاری میڈیا نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد گیارہ اور زخمیوں کی تعداد پینتالیس بتائی ہے۔ یہ حملے ایک ایسے وقت کیے گئے ہیں جب چین میں امریکی اور روسی وزرائے خارجہ شام میں خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے کیے گئے مذاکرات میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

چین کے شہر ہانگ جو میں ہونے والے جی بیس ممالک کے اجلاس کے دوران امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سیرگئی لاوروف نے پیر کے روز بھی بات چیت کی۔ امکان تھا کہ مذاکرات جلد کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔ یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ حلب میں جاری شدید لڑائی کو رکوانے اور وہاں پھنسے عوام کو امدادی سامان پہنچانے کے لیے روس اور شامی حکومت بم باری بند کردیں گے۔

شام میں سلامتی کی مخدوش صورت حال

پیر کے روز ہوئے حملوں کی ذمے داری کسی تنظیم نے تاحال قبول نہیں کی ہے، تاہم ماضی میں شام اور عراق میں متحرک شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ اس طرح کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔

شامی صدر بشار الاسد کی فورسز اور ان کی حامی ملیشیاؤں کے علاوہ کرد باغی بھی ’اسلام اسٹیٹ‘ کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ شامی حکومت کی مدد روس بھی کر رہا ہے۔ دوسری جانب ترکی بھی ’اسلام اسٹیٹ‘ کے خلاف کارروائی کر رہا ہے، تاہم وہ اسد کی فورسز اور کرد باغیوں سے بھی نبرد آزما ہے۔

پیر کے روز ہونے والے دھماکوں کا نشانہ دمشق کے نواح میں ایک فوجی چیک پوائنٹ اور حسکہ میں کرد سکیورٹی فورسز کا ایک فوجی اڈا بھی تھے۔

مقامی ٹی وی کے مطابق طرطوطس میں ایک پل کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ’’پہلا ایک کار بم حملہ تھا جب کہ دوسرا ایک خود کش حملہ جس میں حملہ آور نے لوگوں کے ایک اجتماع میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔‘‘

حلب میں انسانی جانوں کا ضیاع

شامی صدر بشار الاسد کی فوج اور سرکاری دستوں کے خلاف برسر پیکار باغیوں دونوں ہی کا دعویٰ ہے کہ وہ حلب کو متحد کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم اس دعوے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فریقین جس طرح کی جنگ لڑ رہے ہیں، اس نے حلب کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے۔

مبصرین کی رائے میں شام میں جاری جنگ کی کلیدِ فتح حلب ہی ہے۔ اس شہر پر قبضے کا مطلب شامی جنگ میں کسی بھی فریق کے لیے فیصلہ کن جیت ہو گی۔ تاہم اس شہر کی اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ اس سے صرف پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر ترکی کی سرحد ہے۔ اس وقت حلب شام اور ترکی کے درمیان ’پراکسی جنگ‘ کا بھی مرکز بن چکا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن صدر اسد کے کٹر ترین مخالفین میں سے ایک ہیں اور وہ برملا شامی باغیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ انقرہ حکومت کا شمالی شام میں اثر وسیع ہے اور بعض رپورٹوں کے مطابق باغی ترک سرحد عبور کر کے اسلحہ اور کمک حاصل کرتے ہیں۔ اپنے ایک خطاب میں صدر اسد نے حلب کو ایردوآن کا ’قبرستان‘ بنانے کی دھمکی بھی دی تھی۔

حلب سمیت شام بھر میں جاری لڑائی میں اب اتنے زیادہ فریق شامل ہو چکے ہیں کہ یہ تعین کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ کون کس کے خلاف لڑ رہا ہے۔ اسد حکومت اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں سے شدت پسند اسلامی تنظیمیں داعش اور القاعدہ بھی فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سبھی کے لیے حلب کی حیثیت کلیدی ہے۔ اسی کلیدی حیثیت کی حلب کو جان لیوا قیمت بھی چکانا پڑ رہی ہے۔