شام کا تنازعہ، ترکی امریکا کے لیے کس قدر ضروری ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 25.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام کا تنازعہ، ترکی امریکا کے لیے کس قدر ضروری ہے؟

شام میں داعش اپنے آخری ٹھکانے چھوڑ کر فرار ہو رہی ہے جبکہ امریکا اس کے برعکس اس ملک میں طویل قیام کا ارادہ رکھتا ہے۔ اگر امریکا شام میں روس اور ایران کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے تو اسے ترکی کی مدد درکار ہوگی۔

حالیہ کچھ عرصے کے دوران واشنگٹن اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے مابین تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں لیکن امریکا اب بھرپور طریقے سے کوشش کر رہا ہے کہ انہیں معمول پر لایا جائے۔ جمعے کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے اور انہیں وہی کچھ فراہم کیا ہے، جو ترکی چاہتا ہے۔ تعلقات ابھی معمول پر تو نہیں آئے لیکن امریکی صدر نے وعدہ کیا ہے کہ اب شامی کرد ملیشیا ’وائے پی جی‘ کو ہتھیار فراہم نہیں کیے جائیں گے۔ اگر امریکا ابھی یہ اعلان نہ کرتا تو نیٹو کا رکن ملک ترکی روس اور ایران کے مزید قریب ہو جاتا، جو شام میں صدر اسد کے حامی اور امریکا کے مخالف ہیں۔

سابق سفیر اور امریکی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جیمز جیفری کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہم شام میں طویل عرصے تک اس وقت کامیاب نہیں ہو سکتے، جب تک ہمیں ترک فوجی اڈے، ترک فضائی حدود اور ترکی کی سفارتی حمایت حاصل نہیں ہوتی۔‘‘

شام میں زمانہء سرد جنگ کی بازگشت

شام میں داعش کے خلاف امریکا نے ایک اتحاد تشکیل دیا تھا اور اس میں وائے پی جی کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ ترکی بھی اسی امریکی اتحاد کا حصہ ہے۔ لیکن ترکی وائے پی جی کو کالعدم کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کا حصہ سمجھتا ہے اور یہ تنظیم ترکی میں مسلح حملوں کے ساتھ ساتھ علیحدگی کی تحریک جاری رکھے ہوئے ہے۔

جیمز جیفری کے مطابق، ’’ایردوآن کو سب سے زیادہ غصہ اس بات پر آتا ہے کہ امریکا وائے پی جی کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔‘‘

دوسری جانب انقرہ اور واشنگٹن کے مفادات روس اور ایران کے معاملے میں یکساں ہو جاتے ہیں۔ دونوں ملک یہی چاہتے  ہیں کہ ان کا شام میں اثرو رسوخ کم سے کم ہو۔ جمعے کے روز امریکی اور ترک صدور کے مابین ہونے والی گفتگو میں امریکا کے حمایت یافتہ جنیوا امن مذاکرات کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شام امن مذاکرات میں ترکی ایک اہم فریق بن چکا ہے۔ روس کے حمایت یافتہ آستانہ امن مذاکرات میں بھی ترکی، ایران اور روس شریک ہیں جبکہ ترک صدر نے بدھ کے روز روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے بھی ملاقات کی تھی۔

کُرد تنظیم کو اسلحےکی فراہمی کا امریکی منصوبہ قبول نہیں، ترکی

ترک رکن پارلیمان ایکان ایردیمیر کا اس حوالے سے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس مخصوص وقت میں امریکی صدر کی طرف سے ٹیلی فون کال اسی تناظر میں کی گئی ہے۔ ان کے مطابق امریکا نہیں چاہتا کہ ترکی اور روس میں قربت پیدا ہو اور اسی وجہ سے امریکا نے ترکی کو یہ نئی پیش کش کی ہے۔ ترکی کا صدر بشار الاسد کے حوالے سے بھی موقف نرم ہوا ہے۔ حال ہی میں بشار الاسد نے روس میں ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کی ہے اور ان کا طیارہ ترکی کی فضائی حدود سے ہی گزر کر گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے حیران کن اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ داعش کی شکست کے بعد بھی شام میں ہی رہیں گے، ’’ہم ایسے حالات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں، جس سے کوئی سیاسی حل نکل سکے۔‘‘ اب امریکی فوج  اسی صورت شام میں مزید قیام کر سکتی ہے اگر ترکی امریکا کی حمایت کرتا ہے۔ جعفری کے مطابق ترکی اس وقت امریکا سے یہ سوال کر رہا ہے کہ وہ شام میں اب کیا چاہتا ہے؟ اور اس کی پالیسی کیا ہے؟ جبکہ امریکا اب ترک حکومت کے اس سوال کا جواب دینے کے بہت قریب ہے۔

DW.COM

اشتہار