شام پر دوبارہ میزائل حملے کیے جا سکتے ہیں، امریکا | حالات حاضرہ | DW | 08.04.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام پر دوبارہ میزائل حملے کیے جا سکتے ہیں، امریکا

سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں امریکی سفیر نے کہا کہ شام کو دوبارہ بھی میزائل حملوں سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ امریکا نے شامی ایئر بیس شائرات کو انسٹھ ٹوما ہاک کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

USA | Botschafterin der Vereinigten Staaten bei den Vereinten Nationen Nikki Haley mit Fotos syrischer Opfer (Reuters/S. Stapelton)

نکی ہیلی سلامتی کونسل کے اجلاس میں

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں امریکا کی خاتون سفیر نِکی ہیلی نے واضح کیا کہ امریکی ٹوما ہاک کروز میزائلوں سے شامی حکومت کے وسطی علاقے میں شائرات ایئر فیلڈ کو نشانہ بنایا تھا۔ اِس اجلاس میں شام کی تازہ ترین صورت حال کو زیر بحث لایا گیا۔ دوسری جانب مقامی مانیٹرنگ گروپوں کے مطابق جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات میں شائرات ایئر فیلڈ سے شامی جنگی طیاروں نے ایک مرتبہ پھر پروازیں بھرنا شروع کر دی ہیں۔

امریکی سفیر نے واضح کیا ہے کہ کیمیکل حملے کی صورت میں شام کے مختلف علاقوں کو میزائلوں سے دوبارہ نشانہ بنا سکتا ہے۔ امریکی وزارت دفاع نے بھی میزائل داغنے کو خان شیخون کے قصبے پر کیمیکل حملے کا جواب قرار دیا تھا۔ امریکی سفیر نِکی ہیلی نے کہا کہ امریکی میزائل حملے شامی صدر بشار الاسد کے خفیہ کیمیائی ہتھیاروں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا ایک عمل تھا۔

Marschflugkörper Cruise Missile Symbolbild (Getty Images/M.Wilson)

مریکی ٹوما ہاک کروز میزائلوں سے شامی حکومت کے وسطی علاقے میں شائرات ایئر فیلڈ کو نشانہ بنایا گیا

محتاط الفاظ میں ایسا بھی واضح کیا گیا ہے کہ امریکا مزید حملے کر سکتا ہے لیکن ممکنہ طور پر دوبارہ اس کی ضرورت نہیں ہو گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی حملوں کے دور رس نتائج ظاہر ہونے کا کوئی امکان نہیں اور بشار الاسد حکومت پر بھی اس کے محدود اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

 روس نے امریکی کے کروز میزائل حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور جارحانہ اقدام قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ میں روس کے نائب سفیر ولادیمیر سفرانکوف نےکروز میزائلوں کے داغے جانے  کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں سے بین الاقوامی اور علاقائی سلامتی کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ اُدھر روسی وزیراعظم دیمتری میدویدیف نے امریکی حملے کو یک طرفہ اور روسی فوج کے ساتھ براہ راست چپقلش قرار دیا ہے۔