شام نے کوفی عنان امن منصوبہ تسليم کر ليا | حالات حاضرہ | DW | 28.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام نے کوفی عنان امن منصوبہ تسليم کر ليا

اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب برائے شام کوفی عنان نے کل اعلان کيا کہ شام کے صدر نے اُس بين الاقوامی چھ نکاتی منصوبے کو تسليم کر ليا ہے جس کا مقصد سال بھر سے بحران کی شکار اس عرب ریاست میں امن قائم کرنا ہے۔

خصوصی نمائندہ برائے شام کوفی عنان اور عرب ليگ کے جنرل سکريٹری نبيل العربی

خصوصی نمائندہ برائے شام کوفی عنان اور عرب ليگ کے جنرل سکريٹری نبيل العربی

کل صبح بھی دمشق کے مضافاتی علاقوں سے سرکاری فوج اور اپوزيشن کے درميان لڑائی کی خبريں آ رہی تھيں کہ کچھ ہی گھنٹوں بعد بيجنگ سے اچانک يہ خبر ملی کہ شامی صدر بشار الاسد نے اقوام متحدہ اور عرب ليگ کے خصوصی مندوب کوفی عنان کا امن منصوبہ منظور کر ليا ہے۔ اُس وقت کوفی عنان مذاکرات کے ليے بيجنگ ميں موجود تھے اور اُنہوں نے چينی حکومت کے تعاون کی تعريف کرتے ہوئے اس کی تصديق کی کہ شامی صدر اسد اُن کے امن منصوبے پر راضی ہو گئے ہيں۔ اُنہوں نے کہا کہ چين اُن کے چھ نکاتی منصوبے پر عملدرآمد کے سلسلے ميں سلامتی کونسل کے دوسرے اراکين سے تعاون کرے گا۔

شامی اپوزيشن کے اراکين استنبول ميں ايک پريس کانفرنس کے دوران

شامی اپوزيشن کے اراکين استنبول ميں ايک پريس کانفرنس کے دوران

روس ہی کی طرح اب چين نے بھی کوفی عنان کے امن منصوبے کی حمايت کر دی ہے۔ اس سے پہلے دونوں ملک اسد حکومت کی پشت پناہی کر رہے تھے اور اُنہوں نے شام کے بارے ميں سلامتی کونسل کی قراردادوں کا راستہ بھی روکا تھا۔ عنان نے کہا: ’’سلامتی کونسل کے چھ نکاتی منصوبے ميں شامی تنازعے کے فريقين کے درميان انتہائی ضروری سياسی مذاکرات کا تعين کيا گيا ہے۔ اس ميں آباديوں سے بھاری اسلحہ اور فوج نکالنے، قيديوں کی رہائی اور امدادی تنظيموں اور صحافيوں کی آزادانہ نقل و حرکت کا مطالبہ کيا گيا ہے۔ شامی حکومت نے اب اس منصوبے کو منظور کر ليا ہے۔‘‘

ليکن ان دنوں استنبول کے گرين پارک ہوٹل ميں اکٹھی ہونے والی شامی اپوزيشن نے چند گھنٹوں کے اندر ہی اس منصوبے کی واضح طور پر مخالفت کر دی۔ شامی قومی کونسل کے ناجی طيارہ نے کہا: ’’کوفی عنان منصوبے ميں شامی حکومت ميں تبديلی کا مطالبہ نہيں ہے۔ اس چھ نکاتی منصوبے کے بارے ميں يہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ميرے خيال ميں شام ميں تشدد اور خونريزی جلد بند نہيں ہو گی۔‘‘

شامی صدر اسد حُمص کی بستی باباعمر ميں

شامی صدر اسد حُمص کی بستی باباعمر ميں

اپوزيشن کے ايک اور رہنما فواض طيلّو نے کہا: ’دشامی حکومت ايک سال سے جھوٹ بول رہی ہے۔ اُس نے اس دوران بہت سے وعدے کيے ليکن اُنہيں پورا نہيں کيا۔ حکومت صرف انقلاب کو کچلنے کے ليے مزيد وقت حاصل کرنا چاہتی ہے۔‘‘

شامی اپوزيشن دراصل صدر اسد کی پاليسی ميں کسی تبديلی پر غور کرنے کے ليے استنبول نہيں آئی ہے بلکہ وہ اپنی صفوں ميں اتحاد قائم کرنا چاہتی ہے جو کہ مغربی ملکوں کا ايک مطالبہ ہے۔ يکم اپريل کو ’شام کے دوست‘ نامی گروپ کے نمائندے استنبول آ رہے ہيں جن ميں خاص طور پر مغربی اور عرب ممالک شامل ہيں۔ اُس وقت تک اپوزيشن خود کو متحد کر لينا چاہتی ہے۔

رپورٹ: يُرگن اسٹريياک، قاہرہ / شہاب احمد صديقی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM