شام میں فعال جرمن جہادی ہلاک ہو گیا، امریکا | حالات حاضرہ | DW | 30.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں فعال جرمن جہادی ہلاک ہو گیا، امریکا

شام میں فعال انتہا پسند گروہ داعش میں شمولیت اختیار کر لینے والا سابق جرمن ریپَر ڈینس کُسپرٹ امریکی فضائی حملے میں مارا گیا ہے۔ ڈینس کُسپرٹ بطور آرٹسٹ ڈیسگو ڈوگ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔

Deutschland Denis Cuspert IS

داعش کا رکن بننے کے بعد ڈینس نے اپنا نام تبدیل کر کے ابو طلحہ الالمانی رکھ لیا تھا

امریکی محمکہ دفاع کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان مین تصدیق کی گئی ہے کہ سولہ اکتوبر کو شام میں کیے گئے ایک فضایہ حملے میں یہ انتہا پسند مارا گیا تھا۔ انتہا پسندی کی طرف راغب ہو جانے والے اس جرمن باشندے نے امریکی صدر باراک اوباما کو جان سے مار دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ ڈینس جرمن دارالحکومت برلن میں بطور ریپ آرٹسٹ پارٹیوں میں شریک ہوا کرتا تھا۔ تاہم سن 2012 میں اس نے شام میں فعال انتہا پسند گروپ داعش میں شمولیت اختیار کی لی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ وہ اس شدت پسند گروہ میں شمولیت اختیار کرنے والے مشہور مغربی جنگجوؤں میں شمار کیا جاتا تھا۔ داعش کا رکن بننے کے بعد ڈینس نے اپنا نام تبدیل کر کے ابو طلحہ الالمانی رکھ لیا تھا۔

ڈینس کی ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی محکمہ دفاع کی ترجمان ایلیسا سمتھ نے صحافیوں کو بتایا، ’’میں تصدیق کر سکتی ہوں کہ سولہ اکتوبر کو الرقہ میں کیے گئے ایک امریکی فضائی حملے میں ڈینس کُسپرٹ ہلاک ہو گیا تھا۔‘‘ اس جرمن شہری نے 2012ء میں داعش میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ جہادیوں کی طرف سے جاری کی جانے والی متعدد ویڈیوز میں بھی نمودار ہوا تھا۔

گزشتہ برس نومبر میں جاری ہونے والی ایک ایسی ہی ویڈیو میں اس نے بظاہر ایک کٹا ہوا انسانی سر ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا۔ اس ویڈیو میں اس نے دعویٰ کیا تھا کہ داعش کی مخالفت پر اس شخص کا سر قلم کیا گیا تھا۔ امریکی محکمہ دفاع نے اس ویڈیو میں ڈٰینس کے کردار کی تصدیق بھی کی تھی۔ ڈینس نے داعش میں شامل ہوتے وقت اس انتہا پسند گروہ کے سربراہ ابو بکر بغدادی سے وفاداری کا وعدہ کیا تھا اور وہ جرمنی میں جنگجوؤں کی بھرتی کے کام پر مامور تھا۔

ایلیسا سمتھ کے مطابق ڈٰینس نے صرف امریکی صدر کو ہلاک کرنے کی دھمکی دی تھی بلکہ اس نے امریکی اور جرمن شہریوں کو بھی نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ انتہا پسند مغرب میں سکونت پذیر مسلمانوں کو حملے کرنے کی ترغیب بھی دیتا تھا۔ سمتھ نے مزید کہا، ’’ڈینس ایک غیر ملکی دہشت گرد تھا۔ وہ آئی ایس آئی ایل (داعش) کے لیے کام کر رہا تھا۔ وہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی مدد سے مغربی ممالک میں نوجوان جہادیوں کی بھرتی کا کام کرتا تھا۔‘‘

Deutschland Denis Cuspert IS

ڈینس جرمن دارالحکومت برلن میں بطور ریپ آرٹسٹ پارٹیوں میں شریک ہوا کرتا تھا

جمعرات کے دن ہی پینٹاگون سے منسلک ایک اعلیٰ عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا تھا کہ ڈینس کوئی ’ہائی ویلیو ٹارگٹ‘ نہیں تھا اور صرف اسی کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ اس عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ غالباً سولہ اکتوبر کی کارروائی میں دیگر جہادیوں کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہو۔

یہ امر اہم ہے کہ اپریل 2014ء میں شامی جہادیوں نے تصدیق کی تھی کہ ایک کارروائی میں ڈینس ہلاک ہو گیا تھا تاہم بعد ازاں ان انتہا پسندوں نے اپنا یہ بیان واپس لے لیا تھا۔ ابو طلحہ الالمانی کو امریکا نے القاعدہ کے حامی افراد کی فہرست میں شامل کر رکھا تھا۔

ملتے جلتے مندرجات