شام میں ’اسرائیلی حملہ‘، حزب اللہ کا کمانڈر سمیر قنطار ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 20.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں ’اسرائیلی حملہ‘، حزب اللہ کا کمانڈر سمیر قنطار ہلاک

لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا کہنا ہے کہ شام میں اسرائیلی فضائیہ کے ایک حملے کے نتیجے میں حزب اللہ کا جنگجو کمانڈر سمیر قنطار مارا گیا ہے۔ یہ جنگجو اتوار کو علی الصبح دمشق میں متعدد راکٹ حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہوا۔

لبنانی حزب اللہ شیعہ ملیشیا اور دمشق حکومت کے کچھ حامیوں کا کہنا ہے سمیر قنطار کی ہلاکت کا سبب اسرائیلی فضائیہ کا حملہ بنا ہے۔ تاہم دمشق حکومت نے اسے ایک دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا ہے، جس میں اسرائیل کو کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔

شام میں سرکردہ لبنانی جنگجو سمیر قنطار کی ہلاکت کو اسرائیلی کابینہ کے ایک وزیر نے خوش آئند قرار دیا ہے تاہم انہوں نے ان الزامات کی تصدیق نہیں کی کہ قنظار کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملہ اسرائیلی فوج کی طرف سے کیا گیا تھا۔ حزب اللہ نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کارروائی کے پیچھے اسرائیلی فوج کا ہاتھ ہے۔ تاہم اس شیعہ ملیشیا نے اس بارے میں زیادہ تفصیلات عام نہیں کیں۔

اسرائیل نے قیدیوں کے تبادلے کی ایک ڈیل میں 2008ء میں سمیر قنطار کو رہا کیا تھا۔ جب 1979ء میں اسے ایک اسرائیلی جیل میں قید کیا گیا تھا تو اس کی عمر سولہ برس تھی۔ قنطار پر چار اسرائیلیوں کے قتل کا الزام تھا۔ جب اسے رہا کیا گیا تو یہ معاملہ انتہائی متنازعہ رنگ اختیار کر گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ رہائی کے بعد قنطار نے حزب اللہ کے جنگجو دھڑے کی رکنیت اختیار کر لی تھی جبکہ گزشتہ کچھ عرصے سے وہ شام میں صدر بشار الاسد کی حامی افواج کے ساتھ مل کر لڑ رہا تھا۔

شام کے سرکاری میڈیا نے اتوار کے دن دمشق کے نواحی علاقے جرمانا میں ہوئے حملوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی ’دہشت گردوں‘ کی تھی۔ دمشق حکومت نے ان حملوں میں قنطار کے ہلاک ہونے کی کوئی خبر جاری نہیں کی۔ تاہم شام میں فعال صدر اسد کے حامی جنگجو گروہوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے دمشق کے رہائشی علاقے میں کیے گئے فضائی حملے میں حزب اللہ کا اہم کمانڈر قنطار مارا گیا ہے۔

Libanon Samir Kuntar ehemaliger PLF-Anführer

اسرائیل نے قیدیوں کے تبادلے کی ایک ڈیل میں 2008ء میں سمیر قنطار کو رہا کیا تھا

اسرائیل نے شامی سرحدوں کی خلاف ورزی اور قنطار کو ہلاک کرنے کے دعوؤں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اسرائیلی کابینہ میں تعمیرات اور ہاؤسنگ کے وزیر Yoav Gallant نے آج اتوار کو ایک مقامی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس پیشرفت کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے نہ تو اس حملے کی ذمہ داری قبول کی اور نہ ہی اس الزام کو مسترد کیا۔ انہوں نے البتہ کہا، ’’یہ اچھا ہے کہ سمیر قنطار اب اس دنیا کا حصہ نہیں رہا۔‘‘

ستمبر میں امریکی حکومت نے سمیر قنطار کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے قنطار کو حزب اللہ کا ایک اہم رہنما اور ترجمان قرار دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اسرائیلی جیل میں تین عشروں تک قید رہنے والے قنطار نے رہائی کے بعد حزب اللہ ملیشیا کے سینکڑوں جنگجوؤں کے ساتھ شام میں محاذ سنبھال لیا تھا اور اس نے ایران اور شام کی حکومتوں کے تعاون سے گولان کی پہاڑیوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔