شام: داعش کے شدت پسند گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 29.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

شام: داعش کے شدت پسند گرفتار

شام میں کرد فورسز نے کیمپ 'الہول' میں کارروائی کرنے کے بعد متعدد شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کیمپ میں داعش کے بہت سے حامی اور ان کے اہل خانہ مقیم ہیں۔

شام میں مقامی میڈیا کی خبروں کے مطابق 28 مارچ اتوار کو کردوں کی قیادت والی فورسز نے مشتبہ شدت پسندوں کے اہل خانہ کے 'الہول کیمپ' پر چھاپے کی کارروائی کر کے شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے حامیوں سمیت نو افراد کو گرفتار کیا ہے۔

شام میں امریکا کے حمایت یافتہ 'شامی ڈیموکریٹک فورسز' (ایس ڈی ایف) نے اپنی ایک ٹویٹ میں ان گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے۔   اس نے کہا کہ داعش کے لیے بھرتی کرنے والے ابو سعد العراقی سمیت کئی افراد کو گرفتا کر لیا گیاہے۔  

حالیہ دنوں میں تشدد میں اضافے کے سبب کیمپ پر چھاپے کی کارروائی کی گئی تھی جس میں ہزاروں سکیورٹی فورسز نے حصہ لیا۔ اس کیمپ کی سکیورٹی کے لیے ذمہ دار سکیورٹی فورسز کا کہنا نے کہ الہول کیمپ، ''دولت اسلامیہ سے وابستہ شدت پسندوں کی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔''

الہول کیمپ میں تقریبا 60 ہزار افراد رہتے ہیں اور سکیورٹی فورسز کے بیان کے مطابق اس برس کے آغاز سے اب تک کیمپ کے اندر داعش سے وابستہ 47 شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:20

یزیدی خواتین بارودی سرنگوں کی صفائی میں مصروف

شدت پسند اسلامی تنظیم دولت اسلامیہ 2014 تک عراق اور شام کے ایک بڑے علاقے پر قابض ہوگئی تھی جسے اتحادی افواج نے شکست دی۔ الہول کیمپ میں رہنے والے بہت سے لوگ اب اس کیمپ کو ہی داعش کا آخری گڑھ سمجھتے ہیں۔

الہول میں داعش کا اثر و رسوخ

امریکی اتحاد کے ترجمان وینی مراتو نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں کہا، ''ایس ڈی ایف کے اس آپریشن کا مقصد کیمپ کے اندر ہی داعش کی سرگرمیوں کو روکنا اور اس میں خلل ڈالنا ہے۔''

الہول کیمپ کرد فورسز کے کنٹرول میں ہے جس میں داعش سے وابستہ شدت پسندوں کے اہل خانہ کو رکھا گیا ہے۔ اقوام متحدہ اور کرد فورسز بار بار یہ کہتے رہے ہیں کہ اس کیمپ میں مقیم لوگوں کو ان کے اپنے وطن واپس بھیج دیا جانا چاہیے تاہم اس سمت میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ اب تک اس کیمپ کے کچھ ہی بچوں کو اپنے ملک واپس آنے کی اجازت دی گئی ہے۔

گزشتہ ماہ اقوام متحدہ نے کیمپ کے اندر ''انتہا پسندی، فنڈ جمع کرنے، تربیت دینے اور کیمپ کے باہر کارروائیوں کے لیے اشتعال دلانے'' جیسی کارروائیوں کے لیے متنبہ کرتے ہوئے دستاویزی ثبوت فراہم کیے تھے۔

ویڈیو دیکھیے 03:29

داعش کی رکن کے والد اپنی بیٹی، نواسے کی واپسی کے لیے پر امید

اس کیمپ میں رہنے والے بہت سے لوگ داعش کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ بہت سے سخت گیر انتہا پسندوں کا کیمپ پر اثر و رسوخ ہے اور وہ کیمپ میں رہنے والوں کو کرد فورسز کے ساتھ تعاون کرنے سے باز رکھتے ہیں۔

شکست کے باجود عسکریت پسندوں کا تشدد جاری

ایس ڈی ایف نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر سن 2019 میں داعش کے آخر گڑھ پر قبضہ کرتے ہوئے انہیں شکست دینے اور ان کی نام نہاد خلافت کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسی ہفتے ایک تقریب کے دوران اس فتح کی دوسری سالگرہ بھی منائی گئی۔

اس تقریب کے دوران ہی ایس ڈی ایف نے کہا تھا، '' شمال مشرقی شام میں آئی ایس کی سر زمین کے آخری ٹکڑے کے خاتمے کا مطلب، ان کی مکمل شکست نہیں ہے۔ آئی ایس گروپ کا خطرہ جیلوں میں قید ہزاروں قیدیوں کے ساتھ ساتھ کیمپوں میں نظر بند ان کے لواحقین سے بھی ہے۔''

شام میں 2011 میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوئے تھے جس کے خلاف بشار الاسد کی حکومت نے سخت اور ظالمانہ رویہ اپنایا جس میں اب تک تقریبا ًتین لاکھ 38 ہزار افراد ہلاک ہو چگے ہیں۔ لاکھوں افراد زخمی ہوئے ہیں اور اب تک لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

ص ز/  ج ا  (اے پی، اے ایف پی)

DW.COM