شامی مہاجرين کی منتقلی کی راہ ہموار، ٹيکساس کا مقدمہ خارج | مہاجرین کا بحران | DW | 17.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

شامی مہاجرين کی منتقلی کی راہ ہموار، ٹيکساس کا مقدمہ خارج

خانہ جنگی کے شکار ملک شام سے تعلق رکھنے والے پناہ گزينوں کی امريکی رياست ٹيکساس میں قانونی منتقلی کے خلاف رياستی حکومت کی جانب سے دائر کردہ مقدمہ ايک وفاقی عدالت نے خارج کر دیا ہے۔

جمعہ سترہ جون کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ایک فیڈرل ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج ڈيوڈ گوڈبی نے سولہ جون کو اپنا فيصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ٹيکساس کی ریاستی حکومت واشنگٹن میں وفاقی حکومت اور مہاجرين کی مدد کرنے والی تنظيم انٹرنيشنل ريسکيو کميٹی (IRC) کے خلاف کوئی قائل کر دینے والا مقدمہ تیار کرنے ميں ناکام رہی ہے۔ جج گوڈبی کے بقول موجودہ امريکی قوانين ميں رياستی حکام کی جانب سے دائر کی گئی قانونی درخواستوں کی کوئی گنجائش نہيں ہے۔

ریاست ٹيکساس کے حکام کا موقف تھا کہ مہاجرين کی امریکا کے دیگر حصوں سے ٹيکساس منتقلی سے قبل وفاقی حکومت کو رياستی حکام سے مشاورت کرنی چاہيے۔ حکام کا يہ بھی مطالبہ تھا کہ تارکین وطن کی اس منتقلی کے ليے منتخب کردہ تمام پناہ گزينوں کے بار ے ميں وفاق کی طرف سے ریاست کو مخصوص معلومات مہيا کی جانا چاہییں۔

اس فيصلے کے بعد ٹيکساس کے اٹارنی جنرل کين پَيکسٹن نے اپنے ایک تحريری بيان ميں کہا کہ وہ عدالت کے اس فيصلے سے مايوس ہوئے ہیں کہ ٹيکساس اسٹیٹ اس معاملے ميں وفاقی حکومت سے کوئی جواب طلب نہيں کر سکتی۔ رياستی حکام کی جانب سے کہا گيا ہے کہ اب آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کيا جا رہا ہے۔ ٹيکساس کے ہيلتھ اينڈ ہيومن سروسز کميشن نے خبر رساں ادارے اے ايف پی کو ای ميل کے ذریعے جاری کردہ اپنے ایک بيان ميں کہا، ’’امريکا کے مرکزی تفتيشی ادارے سی آئی اے کے ڈائريکٹر نے آج ہی کانگريس کو تنبيہ کی ہے کہ دہشت گرد تنظيم ’اسلامک اسٹيٹ‘ اپنے شدت پسندوں کو مختلف ممالک تک پہنچانے کے ليے مہاجرين کے پروگراموں کو بروئے کار لا سکتی ہے۔‘‘ اس بيان ميں مزيد کہا گيا ہے کہ اسی ليے يہ لازمی ہے کہ رياستی عوام کی سلامتی کو يقينی بنانے کے ليے حکام اس حوالے سے سرگرم رہيں۔

شام ميں خانہ جنگی کے سبب تين لاکھ کے قريب افراد ہلاک ہو چکے ہيں

شام ميں خانہ جنگی کے سبب تين لاکھ کے قريب افراد ہلاک ہو چکے ہيں

اس کے برعکس انٹرنيشنل ريسکيو کميٹی کے امريکا ميں پروگرام کی نائب صدر جينيفر سائم نے کہا کہ مہاجرين کی ٹيکساس منتقلی کے پروگرام کی قانونی حيثيت کے تعين ميں عدالتی فيصلے ميں کسی شک و شبے يا غلطی کی گنجائش نہيں رہی۔

اس بین الاقوامی غير سرکاری تنظيم کی جانب سے کہا گيا ہے کہ ٹيکساس ميں مہاجرين کی منتقلی سے قبل شامی شہريوں کے بارے ميں سب سے کڑی چھان بین کی جاتی ہے۔ ایسے پناہ گزينوں کی سابقہ سرگرميوں اور ان کے بارے ميں تفصيلی معلومات کے حصول کے کام ميں متعدد ايجنسياں سرگرم ہيں اور صرف انہی پناہ گزينوں کو ’ری سيٹلمنٹ‘ يا دوسرے ممالک میں منتقلی کے ليے چنا جاتا ہے، جن کے سابقہ اور موجود ريکارڈ صاف ہوں اور جن پر کسی شک و شبے کی کوئی گنجائش نہ ہو۔

فرانسيسی دارالحکومت پيرس ميں گزشتہ برس نومبر ميں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد امریکا میں ٹيکساس سميت متعدد رياستوں نے کہا تھا کہ وہ شامی مہاجرین کی اپنے ہاں منتقلی یا آبادکاری  کے حق ميں نہيں ہيں۔