شامی فوجیوں کے سروں کے ساتھ تصویریں، جرمن جہادی کو سزائے قید | حالات حاضرہ | DW | 12.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی فوجیوں کے سروں کے ساتھ تصویریں، جرمن جہادی کو سزائے قید

جرمنی کی ایک عدالت نے ایک ایسے ایرانی نژاد جرمن جہادی کو سزائے قید سنا دی ہے، جس نے شام میں دو حکومتی فوجیوں کے سروں کے ساتھ تصویریں اتروائی تھیں۔ عدالت کے مطابق ملزم کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات ثابت ہو گئے تھے۔

Deutschland Mutmaßlicher IS-Anhänger Aria L. in Frankfurt am Main vor Gericht

ایرانی نژاد جرمن جہادی آریا لاجوردی کی فرینکفرٹ کی عدالت میں لی گئی ایک تصویر

جرمن دارالحکومت برلن سے منگل بارہ جولائی کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس ایرانی نژاد جرمن شہری کا نام آریا لاجوردی ہے اور اس کی عمر 21 برس ہے۔ اسے جرمن صوبے ہَیسے کے شہر فرینکفرٹ کی ایک علاقائی عدالت نے دو سال قید کی سزا سنائی ہے۔

اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم جرمنی ہی میں انتہا پسندانہ مذہبی نظریات کا حامل ہو گیا تھا اور 2014ء کے اوائل میں وہ کئی ہفتوں کے لیے شام بھی گیا تھا۔ شام میں آریا لاجوردی ویدات نامی ایک ایسے عسکریت پسند کے ساتھ مل کر انتہا پسندانہ کارروائیوں میں شامل ہو گیا تھا، جو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

پھر 2014ء ہی میں مارچ یا اپریل کے مہینے میں ویدات سمیت متعدد جہادیوں نے صوبے ادلب کے قصبے بِنِّش کے قریب شامی فوج کی ایک چوکی پر حملہ کیا تھا، جس دوران انہوں نے کم از کم دو سرکاری فوجیوں کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ بعد میں ان شدت پسندوں نے ان فوجیوں کے سرقلم کیے اور انہیں دھاتی سلاخوں میں پرو کر ہوا میں لہراتے رہے تھے۔

فرینکفرٹ کی عدالت کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ’’ملزم لاجوردی نے شامی فوجیوں کے ان کٹے ہوئے سروں کے ساتھ کم از کم تین تصویریں بنوائیں، اور اس طرح وہ ان مقتول انسانوں کی بے حرمتی کا مرتکب ہوا تھا جنہیں یہ جہادی ’بے عزت کافر‘ سمجھتے تھے۔‘‘ بعد ازاں ویدات نامی عسکریت پسند نے ان تصویروں میں سے ایک تصویر فیس بک پر بھی شائع کر دی تھی۔

Prozess München IS Angeklagter 20. Januar 2015

جرمنی میں اب تک داعش کے کئی مقامی جہادیوں کے خلاف مقدمات چلائے جا چکے ہیں

عدالتی بیان میں مزید کہا گہا، ’’یہی تصویریں بعد میں جرمنی میں ایک کمپیوٹر پر بھی محفوظ پائی گئیں اور ملزم لاجوردی کی والدہ کے موبائل فون پر بھی۔‘‘ سماعت کے دوران آریا لاجوردی نے عدالت کو بتایا تھا، ’’میں مجرمانہ نوعیت کی ان تصویروں کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا اور میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہی تصویریں بعد ازاں سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں گی۔‘‘

اس مقدمے کے دوران آریا لاجوردی نے یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ اس نے شام میں آتشیں ہتھیار استعمال کرنے کی تربیت تو حاصل کی تھی تاہم وہ اپنے ’پورے دورہ شام کے دوران کسی جہادی گروہ کا رکن نہیں‘ بنا تھا اور نہ ہی اس نے کسی جہادی کارروائی میں شرکت کی تھی۔

DW.COM