شامی صدر اسد کی حکومت کا خاتمہ قريب آتا جا رہا ہے | حالات حاضرہ | DW | 18.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی صدر اسد کی حکومت کا خاتمہ قريب آتا جا رہا ہے

شام نے عرب ليگ سے کيے گئے معاہدے کی پابندی نہيں کی ہے اور مظاہرين کا قتل جاری ہے۔ عرب ليگ کا مسلسل سخت ہوتا لہجہ يہ بتا رہا ہے کہ اُسے اسد حکومت کے خاتمے کی اميد ہے۔

default

عرب ليگ نے جمعرات 17 نومبر کو شامی حکومت سے مطالبہ کيا ہے کہ وہ تين دن کے اندر شہريوں کے خلاف طاقت کا استعمال روک دے، ورنہ اس پر اقتصادی پابندياں لگا دی جائيں گی۔ شام سے متعلق ايک جرمن ماہر فولکر پيرتھيس کو يقين ہے کہ عرب ليگ کے اس فيصلے سے شامی اپوزيشن کو کافی سياسی تقويت ملے گی۔ وہ عرب ليگ کے اس الٹی ميٹم کو ان شامی شہريوں کے ليے ايک پيغام بھی سمجھتے ہيں، جنہوں نے ابھی تک حکومت کے مخالفين کا ساتھ دينے کا فيصلہ نہيں کيا ہے۔

عرب ليگ اس وقت خود کو ايک ايسے ادارے ميں تبديل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جسے آئندہ اس علاقے ميں ايک قابل احترام اخلاقی قوت کی حيثيت حاصل ہو جائے۔ اس سلسلے ميں مصر کی عبوری حکومت کے سابق وزير خارجہ اور عرب ليگ کے موجودہ جنرل سيکرٹری نبيل العربی پيش پيش ہيں۔ وہ خليجی رياست قطر کی حمايت کے ذريعے عرب ليگ ميں تبديلياں لا رہے ہيں۔

جرمن فاؤنڈيشن برائے علوم و سياست کے ڈائريکٹر فولکر پيرتھيس کے خيال ميں اس وقت عرب ليگ اپنے مستقبل کے کردار اور مشن کی تلاش ميں مصروف ہے۔ اس بار وہ علاقے کے ايک مرکزی ملک کے اندرونی معاملات پر توجہ دے رہی ہے اور اُس کا کہنا ہے کہ اگر قتل کا سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ پابندياں لگا دے گی۔

يہ جرمن ماہر 20 سال سے بھی زيادہ عرصے سے شام پر بھرپور توجہ دے رہے ہيں۔ وہ دمشق اور بيروت ميں ريسرچ اور پڑھانے کا کام بھی انجام دے چکے ہيں۔

پيرتھيس کے خيال ميں اگر عرب ليگ نے جلد ہی شام پر پابندياں لگائيں، تو يہ علاقے کے دوسرے ممالک خاص طورپر شام کے اہم ترين تجارتی ساتھی ترکی کے ليے ايک پيغام ہوگا۔ اس کے علاوہ روس اور چين پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ سلامتی کونسل ميں شام پر پابندياں لگانے کی قرارداد کو ويٹو نہ کريں۔ انہوں نے کہا اگر ايک علاقائی تنظيم معاملات اپنے ہاتھ ميں لے ليتی ہےاور کہتی ہے کہ ہم اسد حکومت کا خاتمہ قريب آتا ديکھ رہے ہيں اور ممکنہ طور پر اس کے زوال کو تيز تر کرنے ميں مدد بھی کريں گے تو پھر روس اور چين کو سوچنا پڑے گا کہ وہ کب تک ايک دم توڑتی ہوئی حکومت کا ساتھ ديتے رہيں گے۔ يہ خاص طور پر روس کے ليے سيکھنے کا ايک اہم عمل ہوگا، جو اقتصادی اور فوجی طور پر اسد حکومت سے بہت قريبی تعاون کرتا ہے۔

عرب ليگ کے اجلاس ميں شام کی خالی نشست

عرب ليگ کے اجلاس ميں شام کی خالی نشست

ايران کو بھی اپنی سوچ تبديل کرنا ہوگی، جو شام کے حالات سے پريشان ہے اور جسے علاقے ميں اپنے اس واحد قريبی اتحادی سے محروم ہو جانے کا خدشہ ہے۔ ايران شام کے ذريعے لبنان ميں حزب اللہ کو مدد دے رہا ہے۔ پيرتھيس کا خيال ہے کہ شامی حکومت اب زيادہ عرصے تک قائم نہيں رہ سکے گی۔

رپورٹ: ٹوماس کوہلمن / شہاب احمد صديقی

ادارت: عاطف توقير

DW.COM

اشتہار