شادی کے وقت لڑکیوں کا کنوارپن کا اقرار غیر ضروری، عدالتی فیصلہ | معاشرہ | DW | 27.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

شادی کے وقت لڑکیوں کا کنوارپن کا اقرار غیر ضروری، عدالتی فیصلہ

بنگلہ دیش کی اعلیٰ ترین عدالت کے ایک فیصلے کے مطابق ملکی خواتین کے لیے لازمی نہیں ہے کہ وہ اپنی شادی کی قانونی دستاویزات میں یہ اعتراف بھی کریں کہ وہ کنواری ہیں۔ اب حکومت کو شادی سے متعلق قوانین میں ترامیم کرنا ہوں گی۔

اس بہت متنازعہ ہو جانے والے موضوع پر جنوبی ایشیا کی اس ریاست میں کم از کم بھی پانچ برسوں سے ایک قانونی جنگ جاری تھی، جس میں ایک فریق بنگلہ دیش میں حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی ایک نمایاں تنظیم تھی، جس کا موقف تھا کہ خواتین کی نجی زندگی کی تفصیلات کا تحفظ کرتے ہوئے انہیں  شادی کی قانونی دستاویزات میں ایسی تفصیلات لکھے جانے کے وقت پیش آنے والی ممکنہ شرمندگی سے بچایا جانا چاہیے۔

بنگلہ دیش اگرچہ ایک کثیرالمذہبی معاشرہ ہے لیکن وہاں کی آبادی کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ مسلمانوں سے متعلق ازدواجی قوانین کے تحت وہاں اب تک کسی بھی لڑکی یا خاتون سے اس کی شادی کے وقت پوچھا جاتا ہے کہ وہ بتائے کہ آیا وہ کنواری ہے۔ یہ بات بعد میں اس کی شادی کی قانونی دستاویز میں بھی لکھی جاتی ہے۔

'کنواری‘ کے بجائے 'غیر شادی شدہ‘

اس فارم میں اب تک استعمال کیا جانے والا لفظ 'کماری‘ ہے، جس کا مطلب کنواری ہوتا ہے۔ دوسری صورت میں اگر کوئی خاتون مطلقہ یا بیوہ ہو تو اس کی اس قانونی حیثیت کا بھی اس دستاویز میں لکھا جانا ضروری ہوتا ہے۔

Dhaka Bangladesch 7 von 19

یہ فیصلہ ڈھاکا میں بنگلہ دیش ہائی کورٹ نے سنایا

اب لیکن بنگلہ دیشی ہائی کورٹ نے اتوار پچیس اگست کو اپنے ایک فیصلے میں کہا کہ کسی خاتون کے لیے یہ لازمی نہیں کہ وہ اعلانیہ طور پر یہ بتائے کہ وہ اپنی شادی کے وقت کنورای ہے یا نہیں۔ عدالت کے مطابق اس لفظ کی جگہ آئندہ قانونی دستاویزات میں یہ پوچھا جانا چاہیے کہ آیا کوئی خاتون اپنی شادی سے پہلے شادی شدہ تھی یا نہیں۔

مطلب آئندہ شادی کی دستاویزات میں 'کماری‘ یا 'کنواری‘ کی جگہ 'غیر شادی شدہ‘ لکھا جائے۔ اسی طرح شادی کے وقت کسی دلہا سے بھی 'کنوارہ‘ ہونے کے بجائے اب یہ پوچھا جائے گا کہ وہ غیر شادی شدہ ہے، طلاق یافتہ یا رنڈوہ۔

عدالتی حکم پر عمل درآمد کا وقت غیر واضح

اس کیس میں عدالتی فیصلے کے بعد اب تک ڈھاکا حکومت کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا اور فی الحال یہ بھی واضح نہیں کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے اس فیصلے کے بعد شادی کی دستاویزات میں جو ترامیم کی جائیں گی، وہ کب تک ممکن ہو سکیں گی اور ترمیم شدہ شادی فارم کب سے استعمال میں آ سکیں گے۔

یہ فیصلہ جس کیس میں سنایا گیا، اس کی سماعت 2014ء سے جاری تھی اور اس مقدمے کی محرک دو خواتین وکلاء میں سے ایک عین النہار صدیقہ کی طرف سے عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ 1974ء میں نافذ ہونے والے بنگلہ دیش مسلم میرج اینڈ ڈائیورس ایکٹ کے تحت اس فارم میں ترامیم کا حکم دے، جس کے ایک خانے کو پر کرنے کے لیے شادی کے وقت کسی بھی لڑکی یا خاتون سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ آیا وہ کنواری ہے۔

حقوق نسواں کی تنظیم کا موقف

اس مقدمے میں عین النہار صدیقہ جس تنظیم کی نمائندگی کر رہی تھیں، اس کا نام بنگلہ دیش لیگل ایڈ اینڈ سروسز ٹرسٹ  (BLAST) ہے۔ اس تنظیم کی طرف سے کہا گیا ہے، ''اس عدالتی حکم سے ہمیں کچھ حوصلہ ملا ہے کہ ہمیں اپنی جنگ جاری رکھنا ہو گی، تاکہ مستقبل میں بھی خواتین کے لیے زیادہ بہتر حالات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری تبدیلیاں لائی جا سکیں۔‘‘

ڈھاکا میں مسلمانوں کی شادیاں رجسٹر کرنے والے ایک رجسٹرار  محمد علی اکبر سرکار نے نیوز ایجنسی تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا، ''تمام رجسٹراروں کو ابھی اس وقت تک انتظار کرنا ہو گا، جب تک کہ وزارت قانون اور انصاف کی طرف سے انہیں یہ نہیں بتایا جاتا کہ شادیوں کے متعلقہ فارموں میں عدالتی حکم کے مطابق ترامیم کر دی گئی ہیں۔‘‘

حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی بنگلہ دیشی تنظیموں کے مطابق عدالت عالیہ کے اس فیصلے سے کسی عورت کی شادی کو اس کے جسمانی طور پر کنوارے ہونے سے علیحدہ کر دیا گیا ہے کیونکہ کنوارہ ہونا یا نہ ہونا کسی بھی عورت کا نجی معاملہ ہوتا ہے اور قانونی طو پر شادی کے وقت اس جسمانی کنوار پن کے بجائے یہ بات زیادہ اہم ہوتی ہے کہ آیا کوئی خاتون پہلے سے باقاعدہ شادی شدہ تھی یا نہیں۔

م م / ع ا / تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن

DW.COM