سینیٹ انتخابات: گیلانی کی جیت موضوع بحث | حالات حاضرہ | DW | 03.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سینیٹ انتخابات: گیلانی کی جیت موضوع بحث

پاکستان میں سینیٹ کے انتخابات میں یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے بعد ملک میں سیاسی گرما گرمی ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہے۔ اس کامیابی پر ملک کے طول و عرض میں اسلام آباد سے سینیٹ کی نشستیں موضوع بحث ہیں۔

اس بحث میں بہت سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کئی سیاسی مبصرین ایسے سوالات پوچھتے دکھائی دے رہے ہیں: کیا یہپی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کی شروعات ہے؟ کیا جی ایچ کیو نے عمران خان کی حمایت ترک کردی ہے؟ کیا خفیہ ادارے ان انتخابات میں غیر جانبدار رہے؟ کیا اس شکست کا تعلق ملک کی خارجہ پالیسی سے ہے وغیرہ وغیرہ۔

حکومتی حلقے اس یوسف رضا گیلانی کی جیت پر چراغ پا ہیں۔ حکومت کی طرف سے اس نتیجے چیلنج کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی اس جیت پر جشن منارہی ہے۔ سوشل میڈیا اور پاکستانی ذرائع ابلاغ پر بھی اس جیت کا چرچاہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں سینیٹ کی دو نشستیں تھیں جس میں ایک نشست پر سابق وزیراعظم پاکستان اور پی پی پی کے رہنما یوسف رضا گیلانی امیدوار تھے جبکہ ان کے مدمقابل حفیظ شیخ سے تھے، جو موجودہ حکومت کے وزیر خزانہ بھی ہیں۔

اسلام آباد سے سینیٹ کی اس سیٹ کے لیے یوسف رضا گیلانی نے 169 ووٹ لیے جب کہ حفیظ شیخ 164 ووٹ لے سکے۔

’عمران خان مستعفی ہوں‘

سیاست دان اور سابق وزیر اعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم عمران خان کو اپنی کابینہ سمیت مستعفی ہوجانا چاہیے۔

سینیٹ الیکشن پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''قومی اسمبلی میں ہونے والی ووٹوں کی گنتی سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ یوسف رضا گیلانی کو حفیظ شیخ سے زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ حفیظ شیخ عمران خان کا نمائندہ تھا۔ لہذا عمران خان اور اس کی کابینہ کو مستعفی ہوجانا چاہیے اور اپنے گھر چلے جانا چاہیے۔‘‘

یہ بھی پڑھیے: سینٹ الیکشن، سندھ میں پی ٹی آئی ارکان کا ایک دوسرے پر تشدد

کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ اس شکست سے عوام میں یہ تاثر جائے گا کہ عمران خان اکثریت کھو چکے ہیں۔

Ehemaliger pakistanischer Finanzminister Abdul Hafeez Shaikh

انتخابات میں حفیظ شیخ اور یوسف رضا گیلانی مد مقابل تھے

تجزیہ نگار اور روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون کے سابق ایگزیکٹو ایڈیٹر ضیاءالدین کا کہنا ہے کہ حیرت کی بات ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی خاتون رکن نے زیادہ ووٹ لیے اور حفیظ شیخ نے کم ۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''اس شکست سے اکثریت کھونے کا تاثر جائے گا، جس سے پی ٹی آئی نقصان ہوگا۔ اس کے علاوہ فیصل واوڈا کے اس طرح استعفیٰ دینے سے پی ٹی آئی کی ساخت کو بہت سخت نقصان پہنچے گا اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ آنے والے دن پی ٹی آئی حکومت کے لیے بہت سخت ہوں۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ شکست اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ غالبا اسٹیبلشمنٹ کے مختلف حلقوں میں شدید اختلافات ہیں۔ ''ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اسٹیبلشمنٹ میں سخت گیر ذہنیت کے لوگ بہت سارے ہیں، جو بھارت سے کسی بھی صورت اچھے تعلقات نہیں چاہتے۔ ایسے ہی عناصر نے نواز شریف کی حکومت کو کمزور کیا تھا جب اس نے اعلان لاہور کیا تھا۔ اور اب لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے سخت سخت گیر عناصر عمران خان کے خلاف بھی ہو گئے ہیں، جنہوں نے حال ہی میں بھارت سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘

بزدار اور عمران کا رویہ ذمہ دار

پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر اسحاق خاکوانی کا خیال ہے کہ اس شکست کے بعد تحریک عدم اعتماد کا خطرہ بڑھے گا۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''میرے خیال میں اس شکست کا بڑا گہرا تعلق لوگوں کے رویوں سے ہے۔ وزیراعظم لوگوں کو وقت نہیں دیتے اور بمشکل پانچ منٹ دیتے ہیں اور پانچ منٹ بات کرتے ہیں۔ جب کہ عثمان بزدار پنجاب کے وزیراعلی ہیں ان کے پاس بھی بالکل وقت نہیں ہوتا اور ان کا لوگوں کے ساتھ رویہ بہتر نہیں ہوتا۔ پرویز مشرف کے دور میں شوکت عزیز جیسے غیر منتخب لوگوں کو چودھری پرویز الہی جیسے لوگ ڈیل کرتے تھے۔ یوں پرویز مشرف نے اچھے خاص سال آسانی سے گزار لیے۔ لیکن پی ٹی آئی کا ایسا معاملہ نہیں ہے۔ میرے خیال سے حکومت کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوگا اور تحریک عدم اعتماد بھی پیش کی جا سکتی ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر عمران خان لوگوں سے مشورہ کر لیتے تو صورتحال بہتر ہوتی۔

’’حفیظ شیخ کو اسلام آباد سے الیکشن لڑانے کی کوئی منطق نہیں بنتی تھی۔ سمجھ میں نہیں آرہا کہ ان کو اسلام آباد کا ٹکٹ کیوں دیا گیا۔ وہ سندھ سے آسانی سے منتخب ہو سکتے تھے۔ لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ فیصل واوڈا اتنا اہم کیوں ہے۔ جس طرح آج اس نے استعفیٰ دیا ہے اور جو آج ہمیں شکست ہوئی ہے اس کا پارٹی کو نقصان ہوگا۔‘‘

’بیلنسنگ ایکٹ‘

لاہور سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پرڈی ڈبلیو کو بتایا، ''یہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ایک بیلنسنگ ایکٹ ہے۔ لوگوں کو حیرت ہوگی لیکن اسٹیبلشمنٹ ایسے ہی کام کرتی ہے۔ عمران خان کو بیلنس کرنے کے لیے پی پی پی کو حزب اختلاف کے طور پر پروجیکٹ کرنا ضروری تھا کیونکہ جی ایچ کیو ن لیگ پر بھروسہ نہیں کرتی لیکن زرداری پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔‘‘

کئی مبصرین کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی سینیٹ میں خاطر خواہ نشتیں جیت لے گی، لیکن پھر بھی گیلانی کی فتح انہیں ڈراتی رہے گی۔ کیونکہ اگر سابق وزیر اعظم چیئرمین سینیٹ بھی بن گئے تو وہ قائم مقام صدر کے فرائض بھی ادا کریں گے۔