سینیٹ الیکشن، ’سیاسی سپر اوور شروع‘ | دستک | DW | 05.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

سینیٹ الیکشن، ’سیاسی سپر اوور شروع‘

پہلی گیند نو بال ہوئی اور حفیظ شیخ کی شکست کے طور پر اپوزیشن کو فری ہٹ مل گئی۔ کہیں صادق سنجرانی کی بطور سینیٹ چیئرمین کے امیدوار کی نامزدگی دوسری نو بال اوراپوزیشن کے لیے ایک اور فری ہٹ ثابت نہ ہو جائے۔

سینیٹ انتخابات کی رات عجب سماں تھا۔ اسلام آباد کی مرگلہ پہاڑیوں کے دامن میں سابق صدر زرداری اپنی رہائش گاہ 'زرداری ہاؤس‘ میں یوسف رضا گیلانی کے ساتھ  براجمان، بلاول بھی موجود، ارد گرد اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں کا جھرمٹ۔ 

کون وفادار، کون غدار کس کا ووٹ اپنی سیاسی تجوری میں اور کس کا ووٹ حکومتی زنبیل میں۔ ساری نگاہیں اسلام آباد کے دنگل پر مرکوز، زرداری کی سیاسی ساکھ داؤ پر اور ہدف عمران خان کے نمائندے اور ان کے وزیر خزانہ حفیظ شیخ کی شکست۔ 

زرداری کا ذہن، بقول قریبی ساتھی، سیاسی کیلکولیٹر کی طرح ہے، ظاہری بات ہے جبھی دوستوں اور سیاسی دشمنوں سے ’سیاسی جوڑ توڑ کے بادشاہ‘ کا لقب حاصل کیا ہے۔ واپس زرداری ہاؤس چلتے ہیں جہاں زرداری کے لندن میں نواز شریف سے لے کر قومی اسمبلی کے ہر رکن سے رابطے جاری ہیں۔

رابطہ سردار اختر مینگل سے ہوتا ہے تو پتا چلتا ہے سردار کی اسلام آباد کی فلائٹ مس ہوگئی ہے کیونکہ بلوچستان میں اپوزیشن اتحاد کے ووٹوں پر ’نقب زنی‘ کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ای سی پی کا جواب: سیاسی ماحول میں گرمی برقرار

ذرائع کے مطابق سردار صاحب ائیرپورٹ سے اسلام آباد کے بجائے کوئٹہ شہر روانہ ہوتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی غفور حیدری کے ساتھ مل کر اپوزیشن اراکین کے لیے صبح ووٹ ڈالنے تک اکٹھا رکھنے کی ’حفاظتی تدبیر‘ کو اپنایا جاتا ہے۔ 

ادھر گیلانی کی جیت کے لیے زرداری صاحب کے لیے ایک ایک ووٹ قیمتی۔ رات گئے اسپیشل جہاز کوئٹہ روانہ کیا گیا تاکہ سردار اختر مینگل اسلام آباد پہنچ کر صبح قومی اسمبلی میں ووٹ ڈال سکیں۔

رات طویل اور گہرے اندھیرے۔ پتلی تماشہ والوں کا رت جگا اور پس پردہ ڈوریاں ہلانے والے کردار۔ سینیٹ کے اس سرکس میں کچھ خرید و فروخت کی بوریوں میں سیاسی اور مادی مقناطیسی آفرز کاندھے پر لادے ہوئے تو بعض سیاسی دھونس دھمکیوں کے ہتھیاروں سے لیس اور باقی نظریاتی قسموں وعدوں کے ساتھ اراکین کو منانے اور رام کرنے میں مصروف تھے۔

اس طرح کے پتلی تماشہ کو بقول مرحوم بلوچ قوم پرست رہنما حاصل بزنجو صاحب طنزیہ طور پر 'سینیٹ کے بدقسمت بازار کا نیلام گھر‘ کہتے تھے۔ 

اس سینیٹ بازار کا مرکز اس مرتبہ اسلام آباد رہا۔ اپوزیشن اتحاد نے اپنے بیانیے میں گیلانی بمقابلہ حفیظ شیخ الیکشن کو براہ راست اپوزیشن بمقابلہ عمران خان حکومت مقابلے کا پرچار کیا۔ بالواسطہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی اس بیانیے میں شامل کر لیا۔

Asif Zardari Präsident Pakistan auf Nato-Gipfel in Chicago 2012

سیاسی جوڑ توڑ کے لیے سابق صدر آصف علی زرداری کو اہم قرار دیا جاتا ہے

اسلام آباد کی سینیٹ کی دو سیٹوں پر چناؤ قومی اسمبلی کے اراکین کے ووٹوں سے ہوتا ہے۔ بیانیہ کچھ یوں تعمیر کیا گیا کہ اگر گیلانی جیت جاتے ہیں تو گویا عمران خان قومی اسمبلی میں اعتماد کھو دیں گیں۔ 

میڈیا اس بیانیے کے سیلاب میں حسب عادت بہہ گیا۔ خوب ڈھول پیٹا گیا۔

عمران خان اور ان کے وزیر اور مشیر ان کی 'نا تجربہ کاری‘ کہہ لیں یا ’سیاسی غیبی امداد‘ پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کہیں، اپوزیشن کے بیانیے کے ٹریپ میں پھنس گئے۔

یہ بھی پڑھیے: اعلیٰ ایوانوں میں ضمیر بیچا جائے گا تو ملک کا کیا ہو گا؟ عمران خان

کبڈی کبڈی کرتے اپوزیشن کے اکھاڑے میں چھلانگ لگا دی۔ دیوار سے لگی اپوزیشن اور کرپشن کے مقدمات میں پھنسے ان کے رہنماؤں کے لیے سیاسی میدان میں واپس آنے کا سنہری موقع تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ حفیظ شیخ کا نا تو تحریک انصاف سے کوئی نظریاتی تعلق ہے اور نا وہ پارٹی صفوں میں کوئی پاپولر شخصیت ہیں۔

گیلانی کئی دہائیوں سے پاکستانی سیاسی میدان کے داؤ پیچ سے واقف ہیں۔ سیاسی خاندانوں بشمول عمران خان کے اتحادی پیر پگاڑا سے رشتہ داریاں ہیں۔ چانس زیادہ ہے۔ ہوا بھی کچھ یوں ہی۔  

حفیظ شیخ کا ہارنا تھا، فتح کے شادیانے  بجائے گئے۔ عمران خان حکومت کے لیے ایک بڑا اپ سیٹ اور یہ شکست ان کے حواریوں کے لیے سبکی کا باعث بنی۔ اس سارے ماحول میں عمران خان کو اپنے قریبی ساتھی جہانگیر ترین جو شوگر اسکینڈل کی زد میں ہیں ان کی کمی ضرور محسوس ہوئی ہوگی۔

 اب ان کے لیے غیر منتخب وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو اپنی کابینہ کا حصہ بنائے رکھنا بھی مشکل اور ملک کی کمزور معاشی صورتحال کے تناظر میں ان کے بغیر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے ڈیل کرنا بھی آسان نہیں، واقعی خان صاحب کو اب ایک پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے۔

دوسری جانب سیاسی چہ میگویاں کہ ان کا اتحادیوں کی بیساکھیوں پر کھڑا اقتدار کتنا کمزور ہے۔

پنجاب میں چوھدری برادران کی سپورٹ بھی دائمی نہیں ہے اور کس کے سہارے کھڑی ہے سب کو علم ہے۔ وسیم اکرم پلس بزدار آخر کب تک ’زیر تربیت‘ رہیں گے اور وہ بھی شریف خاندان اور اقتدار کے سیاسی گڑھ پنجاب میں۔  ان کے اپنے ساتھی کہتے ہیں کہ بوجھ ہیں جتنا جلدی ہٹا دیں بہتر ہے۔ مگر عمران خان نے منصور اختر کو بھی کئی برس تک بغیر پرفارمنس ٹیم کے ساتھ رکھا تھا- 

عمران خان کو اب یکدم کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ قومی اسمبلی سے کل یعنی ہفتہ کے روز اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا جس کا فیصلہ انہوں نے خود کیا ہے۔ عمران خان کے اس فیصلہ کو سیاسی اور اخلاقی طور پر پزیرائی حاصل ہے اور عمومی طور پر تاثر یہی ہے کہ انہیں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کوئی زیادہ مشکلات نہیں ہونی چاہیں کیونکہ اسلام آباد کی دوسری سیٹ سے تحریک انصاف کی پرانی ورکر خاتون اکثریت کیساتھ 174 ووٹ حاصل کر کے جیتی ہیں، جو قومی اسمبلی سے اعتماد حاصل کرنے کے لیے کافی ہے۔ 

Yousuf Raza Gilani Pakistan

اطلاعات ہیں اپوزیشن اتحاد سینیٹ چیئرمین کے امیدوار کے طور پر یوسف رضا گیلانی کو نامزد کر سکتا ہے

لیکن حفیظ شیخ کی شکست کے بعد ہر وقت دھڑکا کہ اپوزیشن کی اگلی چال کیا ہو سکتی ہے، جو اقتدار کے سیاسی کھیل میں واپس آگئی ہے۔ اگلے بڑے معرکے کے لیے اگلے ہفتہ ہی صف آرائی یعنی سینیٹ چیئرمین کا چناؤ ہے۔ عمران  خان نے صادق سنجرانی کو دوبارہ  چیئرمین کے عہدے کے لیے امیدوار کھڑا کیا ہے۔ قوی امکان کہ مقابلے میں گیلانی ہوں گے تاہم اپوزیشن کی جانب سے حتمی اعلان ابی باقی ہے۔ 

بڑا سوال کہ کیا زرداری اپنے ماضی کے ’سیاسی گناہ‘ دھونے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ دو ہزار اٹھارہ میں عمران خان کے ساتھ مل کر انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی آشیرواد کی خواہش میں صادق سنجرانی کو منتخب کروایا تھا۔ مولانا اور نواز شریف کی رضا ربانی کو اپوزیشن کا چیئرمین کے لیے بلا مقابلہ امیدوار کی پیشکش کو ٹھکرا کے پشیمانی کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہوا تھا۔ 

یہ بھی پڑھیے:سينيٹ اليکشن: کیا ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے؟

گزشتہ برس اپوزیشن کی صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد تحریک بھی ناکام ہو گئی تھی اور ماضی کا عمومی تاثر کہ سنجرانی کو طاقتور حلقوں کی سپورٹ حاصل رہی ہے۔ اس مرتبہ سینیٹ چیئرمین کے انتخاب سے قبل اپوزیشن اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے میں ترش لہجہ حکمت عملی کے ذریعے اپنا رہی ہے تاکہ سیاسی دباؤ کے ذریعہ  بقول ان کے اسٹیبلشمنٹ کو اس سارے عمل سے مبینہ طور پر دور رکھا جا سکے۔ 

نواز شریف نے پارٹی ورکرز سے خطاب کے دوران اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ دہرایا اور اسی روز مریم نے اس سیاسی ماحول میں یعنی حفیظ شیخ کی شکست کے اگلے روز آرمی چیف اور آئی ایس آئی سربراہ کی عمران خان سے ملاقات کی تصاویرکے اجراء  کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس مرتبہ اپوزیشن یہ موقع گنوانا نہیں چاہے گی۔ سو اراکین کے سینیٹ میں اپوزیشن اتحاد کو معمولی برتری حاصل ہے، جس طرح عمران خان اور ان کے اتحادیوں کو قومی اسمبلی میں۔ یوں سمجھیے پاکستان کے سیاسی میدان میں عمران خان اور اپوزیشن کے مابین سپر اوور شروع ہے۔

عمران خان نے اپنے کرکٹ دور میں تو زیادہ تر مثالی اوور ہی کرائے ہیں لیکن یہ غالبا ان کے سیاسی کیرئیر کا اہم ترین اوور ثابت ہو سکتا ہے۔ پہلی گیند پر نو بال ہوئی اور حفیظ شیخ کی شکست کے طور پر اپوزیشن کو فری ہٹ مل گئی۔ کہیں صادق سنجرانی کی بطور سینیٹ چیئرمین کے امیدوار کی نامزدگی حفیظ شیخ کی طرح دوسری نو بال اوراپوزیشن کے لیے ایک اور فری ہٹ ثابت نہ ہو جائے۔

DW.COM