سیاحتی ویزے پر یورپ آ کر پناہ کی درخواست دیں تو کیا ہوتا ہے؟ | مہاجرین کا بحران | DW | 26.09.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

مہاجرین کا بحران

سیاحتی ویزے پر یورپ آ کر پناہ کی درخواست دیں تو کیا ہوتا ہے؟

یورپی یونین کے ڈبلن ضوابط یہ طے کرتے ہیں کہ کس پناہ گزین کی درخواست پر کارروائی کہاں کی جا سکتی ہے۔ لیکن کیا ان قوانین میں سیاحتی ویزوں پر یورپ آنے والوں کے بارے میں بھی معاملات واضح طور پر طے شدہ ہیں؟

پناہ کے یورپی قوانین یعنی ڈبلن ضوابط کے تحت کوئی بھی شخص یورپی یونین کے اسی رکن ملک میں اپنی سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرا سکتا ہے، جس کی قومی حدود میں وہ سب سے پہلے داخل ہوا ہو۔ ان ضوابط کے تحت کئی یورپی ممالک پناہ گزینوں کو واپس دوسرے یورپی ممالک میں بھی بھیج دیتے ہیں۔

اکوما کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ کیمرون سے تعلق رکھنے والے اس پناہ گزین نے انفومائگرینٹس کو بتایا کہ وہ سیاحتی ویزے پر اٹلی آیا۔ وہ بیلجیم میں پناہ کی درخواست دینا چاہتا تھا۔ لیکن اسے ویزا دلوانے والے ایجنٹ نے اسے ڈبلن ضوابط کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔

اٹلی سے وہ بیلجیم کے ہوائی اڈے پر پہنچا اور وہاں پناہ کی درخواست جمع کرانے کی کوشش کی۔ ڈبلن ضوابط کے تحت حکام نے اسے واپس اٹلی بھجوا دیا۔

سیاحتی ویزے پر یورپ آ کر پناہ کی درخواست دی جا سکتی ہے؟

شینگن زون کے سیاحتی یا مختصر مدت کے کسی دوسرے ویزے پر یورپ آ کر پناہ کی درخواست دی جا سکتی ہے تاہم اس کے باوجود ڈبلن ضوابط کا اطلاق ہوتا ہے۔ اکوما کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔

مغربی بلقان، جارجیا یا وینزویلا جیسے ممالک کے شہری ویزے کے بغیر یورپ آ سکتے ہیں۔ ان پر بھی ڈبلن ضوابط کا اطلاق ہوتا ہے۔

ہوائی یا زمینی راستے کے ذریعے آپ یورپی یونین کے جس رکن ملک کے ذریعے یونین کی حدود میں داخل ہوئے ہوں، پناہ کی درخواست بھی وہیں جمع کرائی جا سکتی ہے۔

وزٹ ویزا کی میعاد ختم ہونے کے بعد قیام

ویزا کی میعاد ختم ہونے کے بعد بھی اگر کوئی غیر ملکی غیر قانونی طور پر یورپ میں مقیم رہے، تو اس کی معلومات ویزا انفارمیشن سسٹم میں ریکارڈ کر لی جاتی ہے۔

ایسی صورت میں اگر کوئی بعد میں واپس چلا جائے اور کسی وقت دوبارہ ویزا حاصل کرنے کی کوشش کرے، تو اسے ویزا جاری نہیں کیا جاتا۔

ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی یورپ میں سیاسی پناہ کے حصول کے لیے درخواست جمع کرائی جا سکتی ہے۔ لیکن عام طور ایسے درخواست گزاروں کو پناہ دیے جانے کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں۔

جعلی ویزے یا جعلی دستاویزات کے ساتھ سفر

اقوام متحدہ کے منشیات اور جرائم سے متعلق ادارے کے مطابق انسانوں کے اسمگلر عام طور پر لوگوں کو جعلی سفری دستاویزات کے ذریعے دیگر ممالک بھیجتے ہیں۔

جعلی سفری دستاویزات پر سفر کر کے یورپ آنے والے افراد بھی ہوائی اڈے پر پہنچ کر پناہ کی درخواستیں دے سکتے ہیں۔ قوانین کے مطابق یورپی ممالک پناہ کی درخواستیں وصول کرنے اور ان کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنے کے پابند ہیں۔ اس لیے کہ کسی بھی پناہ گزین کو ایسے ملک واپس نہیں بھیجا جا سکتا، جہاں اس کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو۔

تاہم جعلی ویزے یا سفری دستاویزات پر سفر کرنا جرم ہے اور اس جرم میں آپ کو حراست میں بھی لیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں جعل سازی کے باعث پناہ ملنے کے امکانات بھی معدوم ہو جاتے ہیں۔

ماریون میک گریگر (ش ح / م م)