سکیورٹی خدشات، ریڈ کراس نے پاکستان میں متعدد دفاتر بند کر دیے | حالات حاضرہ | DW | 29.08.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سکیورٹی خدشات، ریڈ کراس نے پاکستان میں متعدد دفاتر بند کر دیے

انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس نے کہا ہے کہ پاکستان میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے وہ پاکستان میں اپنے زیادہ تر دفاتر بند کر رہا ہے۔

اپریل میں پاکستان میں کام کرنے والے اسی عالمی ادارے کے ایک برطانوی اہلکار کا سر قلم کر دیا گیا تھا، جس کا الزام طالبان شدت پسندوں پرعائد کیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد بین الاقوامی امدادی ادارہ ریڈ کراس پاکستان کے تین صوبوں میں اپنے کاموں کو معطل کر چکا تھا۔

سکیورٹی خدشات کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ادارے نے منگل کو بتایا ہے کہ اگرچہ وہ پاکستان میں اپنے آپریشنز جاری رکھے گا تاہم ان کا دائرہ کار محدود کر دیا جائے گا۔ اسلام آباد میں اس ادارے کے سربراہ پال کاسٹیلا نے پاکستان میں اپنی سرگرمیوں کو محدود پیمانے پر لے جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا: ’’ پاکستان میں گزشتہ ساٹھ برسوں سے کام کرنے کی وجہ سے ہم جانتے ہیں کہ امدادی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے نتیجے میں متعدد علاقوں کے بہت سے لوگ متاثر ہوں گے۔

ریڈ کراس 1947ء سے پاکستان میں سرگرم ہے۔ یہ ادارہ صحت عامہ کےعلاوہ تشدد یا قدرتی آفات کے نتیجے میں متاثر ہونے والے لوگوں کے لیے کام کرتا ہے۔ کاسٹیلا نے بتایا کہ ان کا ادارہ پاکستان میں کام کرتا رہے گا لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کے عملے کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

Deutschland Fotoausstellung Berlin zeitlos schön 2012 Erwin Blumenfeld

ریڈ کراس 1947ء سے پاکستان میں سرگرم ہے۔

بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں یہ ادارہ اپنے دس میں سے آٹھ دفتر بند کر رہا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ یہ ادارہ جنگ زدہ علاقوں میں بھی اپنی سرگرمیوں کو کبھی کبھار ہی معطل کرتا ہے۔ ریڈ کراس کے جنوبی ایشیا کے سربراہ Jacques de Maio نے بھی اپنے ادارے کے بلاگ پر لکھا ہے: ’’ریلیف اور تحفظ کی تمام تر سرگرمیوں کو روک دیا گیا ہے۔ بحالی اور اقتصادی پراجیکٹس کو بھی منسوخ کر دیا گیا۔‘‘

جنوری میں ریڈ کراس کے ایک اہلکار خلیل رسجد ڈیل کو صوبہ بلوچستان سے اغوا کر لیا گیا تھا، جس کے بعد اغوا کاروں نے ان کی رہائی کے لیے تاوان کی ایک بڑی رقم کا مطالبہ کیا تھا لیکن انتیس اپریل کوئٹہ سے ان کی لاش برآمد ہوگئی تھی، جس کے بعد آئی سی آر سی نے پاکستان میں اپنے متعدد آپریشنز معطل کر دیے تھے۔

جان کاسٹیلا کے بقول وہ اسلام آباد حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ان کے عملے کے لیے سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونے کی صورت میں وہ کام کر سکتے ہیں۔ خلیل ایسے تیسرے غیر ملکی تھے، جنہیں پاکستان میں سر قلم کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 2002ء میں امریکی صحافی ڈینئل پرل اور 2009ء میں پولش ماہر ارضیات Piotr Stanczak کو بھی پاکستان میں ایسے ہی ہلاک کیا گیا تھا۔

ریڈ کراس کے مطابق سن 2011 میں دنیا بھر کے ممالک کے مقابلے میں اس نے پاکستان میں سب سے زیادہ کام کیا تھا۔ اس دوران پاکستان میں اس ادارے سے وابستہ تیرہ سو اہلکاروں نے تشدد، سیلاب اور دیگر آفات سے متاثرہ لاکھوں افراد کی مدد کی۔

ab/ng (AFP, dpa)

اشتہار