سکا خان کو ویزا مل گیا، 75برس بعد پاکستانی رشتہ داروں سے ملاقات ہوگی | معاشرہ | DW | 29.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

سکا خان کو ویزا مل گیا، 75برس بعد پاکستانی رشتہ داروں سے ملاقات ہوگی

بھارتی شہری سکہ خان کے لیے تقسیم ملک کا زخم 75 برس بعد مندمل ہو رہا ہے۔ پاکستان کا ویزا مل جانے کے بعد اب وہ پنجاب کے فیصل آباد میں اپنے بھائی صدیق اور رشتہ داروں کے درمیان جلد ہی موجود ہونے کی خوشی سے سرشار ہیں۔

نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے بھارتی شہری محمد حبیب عرف سکا خان کو جمعے کے روز ویزا جاری کر دیا۔ پاکستانی ہائی کمیشن نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں سکا خان کو ویزا ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

پاکستانی ہائی کمیشن نے سکا خان کو ویزا جاری کرنے کی اطلاع ٹوئٹر پر بھی دی۔ اس کے ساتھ ایک تصویر بھی شیئر کی ہے جس میں ان کے ہاتھ میں پکڑے پاسپورٹ پر ویزے کے مہر لگی ہوئی ہے۔ ٹوئٹر پیغام میں کہا گیا ہے،''آج سکا خان کو پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے پاکستان میں اپنے بھائی محمد صدیق اور خاندان کے دیگر افراد سے ملاقات کے لیے ویزا جاری کر دیا گیا ہے۔‘‘

 پاکستانی ہائی کمیشن نے کہا کہ دونوں بھائیوں کی ملاقات اس بات کابہت بڑا ثبوت ہے کہ کرتار پور کوریڈور کو ویزا فری کھولنے کا پاکستان کا تاریخی فیصلہ دونوں ملکوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لارہا ہے۔

بھائیوں کی ملاقات سوشل میڈیا کی مرہون منت

ان بچھڑے بھائیوں کی ملاقات پچھتر برس بعد گزشتہ 10 جنوری کو پاکستان میں واقع کرتارپور صاحب گردوارے میں ہوئی تھی۔ دونوں بھائیوں محمد حبیب اورمحمد صدیق کی جذباتی ملاقات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوگئی تھی۔

سکا خان نے کہا تھا، ''ہم پھر ضرور ملیں گے، میں اپنا آخری وقت اپنے بھائی اور ان کے خاندان کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں۔‘‘ دوسری طرف محمد صدیق نے کہا تھا،''عمران خان سے کہتا ہوں کہ وہ بچھڑے ہوئے بھائیوں کو ملانے کے لیے میرے بھائی محمد حبیب کو پاکستان کا ویزا دے دے۔ زندگی کی آخری سانسیں ہم اکھٹے گزار لیں تو شاید ماں باپ، بہن بھائیوں سے بچھڑنے کا دکھ کچھ کم ہو سکے۔‘‘

دراصل ناصرڈھلون نامی ایک پاکستانی پنجابی، تہذیب و ثقافت اور تقسیم وطن پر مبنی ایک یو ٹیوب چینل چلاتے ہیں۔ سن 2019میں وہ اپنے کام کے سلسلے میں فیصل آباد ضلع میں بوگران گاوں سے گزر رہے تھے، جہاں انہیں محمد صدیق کی کہانی معلوم ہوئی کہ کس طرح 1947میں تقسیم وطن کے ہنگامے کے دوران وہ اپنے والد کے ساتھ پاکستان چلے آئے جبکہ ان کی والدہ اور چھوٹا بھائی بھارت میں رہ گئے۔ محمد صدیق جب اپنے بھائی اور والدہ سے بچھڑے تو اس وقت سکا خان کی عمر دو برس تھی۔

محمد صدیق کو یقین تھا کہ ان کا بھائی اب بھی باحیات ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپنے بھائی کا پتہ لگانے کی اپیل کی۔ ان کی یہ اپیل جب یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی اور سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تو بھارتی پنجاب کے گاؤں پھول والا کے ایک ڈاکٹر نے لکھا کہ صدیق جس شخص کی تلاش میں ہیں وہ حبیب عرف سکا خان کے نام سے ان کے گاؤں میں رہتے ہیں۔

لیکن دونوں بھائیوں کی ملاقات کے لیے ضروری دستاویزات کی خانہ پری میں مزید دو برس لگ گئے۔ بالآخر بھارت اور پاکستان کے عہدیداروں نے کرتار پورصاحب گردوارے میں دونوں بھائیوں کی ملاقات کی اجازت دے دی۔

سکا خان کے بھائی کا کہنا ہے کہ سکا کا استقبال کرنے کے لیے لوگ واہگہ بارڈر پر جائیں گے

سکا خان کے بھائی کا کہنا ہے کہ سکا کا استقبال کرنے کے لیے لوگ واہگہ بارڈر پر جائیں گے

بھارت کا ردعمل

سکا خان کی اپنے بھائی سے ملاقات اور ویزا جاری کیے جانے پر بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ دونوں ملکوں کے درمیان مذہبی سیاحت کی ''مثبت اپروچ‘‘ کا نتیجہ ہے اور نئی دہلی دونوں ملکوں کے درمیان زیارت کو وسعت دینے پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ بلوچستان میں مندروں اور سندھ اور خیبر پختونخوا میں گردواروں میں بھی بھارتی زائرین کو جانے کی اجازت دی جائے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان اریندم باگچی کا اس حوالے سے کہنا تھا، ''بھارت کا اس معاملے پرمثبت رویہ ہے اور پاکستان سے بات چیت کا خواہش مند ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا،''آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت کووڈ انیس کی وجہ سے بعض پابندیاں ہیں لیکن جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے ہمیں توقع ہے کہ مذہبی مقامات کی زیارت کے حوالے سے دونوں ملکوں کے مابین 1974کے پروٹوکول کے تحت بات چیت ہوسکتی ہے۔‘‘

دریں اثنا پاکستانی میڈیا کی خبروں کے مطابق محمد صدیق نے اپنے بھائی کو پاکستانی ویزا جاری کرنے کے لیے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور حکام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا، ''سارا خاندان اور گاؤں خوش ہے۔ گاؤں والے بار بار آکر پوچھ رہے ہیں کہ بھائی کب پہنچیں گے۔ بہت سارے لوگ ان کا استقبال کرنے کے لیے واہگہ بارڈر پر جائیں گے۔‘‘

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات