سڈنی کے کيفے ميں کارروائی، حملہ آور ہلاک اور يرغمالی بازياب | حالات حاضرہ | DW | 16.12.2014
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سڈنی کے کيفے ميں کارروائی، حملہ آور ہلاک اور يرغمالی بازياب

آسٹريلوی پوليس نے منگل 16 دسمبر کو علی الصبح کارروائی کرتے ہوئے سڈنی کے ايک کيفے ميں متعدد افراد کو يرغمالی بنانے والے حملہ آور کو ہلاک کر ديا اور کئی يرغماليوں کو رہا کرا ليا ہے۔

سڈنی کے مرکزی کاروباری علاقے ’مارٹن پليس‘ ميں واقع لنڈٹ نامی کمپنی کے ايک کيفے سے منگل کے روز مقامی وقت کے مطابق رات دو بجے چھ افراد فرار ہونے ميں کامياب رہے۔ اِس کے فوری بعد کئی پوليس اہلکار کيفے ميں داخل ہوگئے اور اُنہوں نے کارروائی کرتے ہوئے يرغماليوں کو رہا کرا ليا۔ اِس دوران حملہ آور سميت دو ديگر افراد ہلاک بھی ہوئے۔

مقامی ذرائع ابلاغ پر نشر کردہ رپورٹوں کے مطابق ہلاک ہونے والوں ميں 34 سالہ کيفے کا مالک اور ايک 38 سالہ عورت شامل ہيں۔ ايک پوليس اہلکار سميت چار افراد زخمی بھی ہوئے، جو اِس وقت زير علاج ہيں۔ بعد ازاں بم اسکواڈ ٹيم کے ارکان نے کيفے ميں بارودی مواد تلاش کيا تاہم اُنہيں کچھ نہ ملا۔ پوليس کارروائی کے بعد علاقہ اب تک سکیورٹی فورسز کے محاصرے ميں ہے اور اِسے عوام کے ليے تاحال کھولا نہيں گيا ہے۔

اب تک مجموعی طور پر 17 يرغماليوں کے بارے ميں حتمی معلومات سامنے آ چکی ہيں، جن ميں پانچ وہ افراد بھی شامل ہيں، جو پير کے روز ہی فرار ہونے ميں کامياب ہو گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق حملہ آور ايک ايرانی نژاد شخص تھا، جس کا نام ہارون مونس تھا

ذرائع کے مطابق حملہ آور ايک ايرانی نژاد شخص تھا، جس کا نام ہارون مونس تھا

آسٹريلوی رياست ’نيو ساؤتھ ويلز‘ کے پوليس کمشنر اينڈرو اسکيپوئن نے بعد ازاں ايک پريس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتايا کہ پوليس نے کارروائی کرنے کا فيصلہ اِس ليے کيا کہ اُنہيں خدشہ تھا کہ اگر اُس مخصوص وقت کارروائی شروع نہ کی گئی، تو انسانی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ اُنہوں نے بتايا کہ واقعے کی تحقيقات سے يہ واضح ہو گا کہ ہلاک شدگان فائرنگ کے تبادلے ميں ہلاک ہوئے يا اُنہيں حملہ آور نے ہلاک کيا۔

يہ امر اہم ہے کہ سڈنی کے اِس کيفے ميں ايک مسلح شخص نے گزشتہ روز سے متعدد افراد کو يرغمال بنا رکھا تھا۔ ابتداء ميں مقامی ٹيلی وژن پر نشر کردہ مناظر ميں ايسا معلوم ہوتا تھا کہ حملہ آور کے پاس ايک ايسا سياہ جھنڈا ہے، جيسا کہ عراق اور شام ميں سرگرم شدت پسند تنظيم اسلامک اسٹيٹ استعمال کرتی ہے۔ اِس حملہ آور نے مبينہ طور پر لوگوں کو کھڑکيوں کے ساتھ کھڑا کر کے اُنہيں يہ پرچم پکڑنے پر مجبور بھی کيا۔

اگرچہ حکام نے سرکاری طور پر پچاس سالہ حملہ آور کی شناخت کے حوالے سے کوئی تفصيلات جاری نہيں کی ہيں تاہم پوليس کے ذرائع کے مطابق يہ حملہ آور ايک ايرانی نژاد شخص تھا، جس کا نام ہارون مونس تھا۔ ماضی ميں اُس پر نہ صرف جنسی حملے کی فرد جرم عائد کی جا چکی ہے بلکہ وہ آسٹریلوی فوج کے کنبوں کو نفرت آمیز خطوط بھی ارسال کر چکا ہے۔ آسٹريلوی وزير اعظم ٹونی ايبٹ کے مطابق حکام اِس حملہ آور سے واقف تھے اور وہ انتہا پسند سوچ کا حامل اور ذہنی عدم استحکام کا شکار تھا۔