سڈنی: کیفے پر حملہ کرنے والا ایرانی پناہ گزین ہے، میڈیا رپورٹیں | حالات حاضرہ | DW | 15.12.2014
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سڈنی: کیفے پر حملہ کرنے والا ایرانی پناہ گزین ہے، میڈیا رپورٹیں

آسٹریلوی میڈیا کے مطابق سڈنی کے ایک کیفے پر حملہ کرنے والا ایک ایرانی پناہ گزین ہے، جس پر نہ صرف جنسی حملے کی فرد جرم عائد کی جا چکی ہے بلکہ وہ آسٹریلوی فوج کی کنبوں کو نفرت آمیز خطوط بھی ارسال کر چکا ہے۔

آسٹریلوی میڈیا رپورٹوں کے مطابق حملہ آور کا نام ہارون مونس ہے اور اس کی عمر انچاس برس ہے۔ پیر کی صبح ہارون مونس کے حملے کے بعد پولیس نے اس شہر کے مرکزی علاقے کو گھیر رکھا ہے جبکہ پندرہ گھنٹے گزر جانے کے باوجود بھی یہ مسلح شخص متعدد افراد کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ کئی دہائیوں بعد آسٹریلیا میں اس نوعیت کا کوئی واقعہ رونما ہوا ہے۔

سڈنی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق لنڈٹ نامی اس کیفے سے کم ازکم پانچ افراد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جن میں اس کیفے کے دو اہلکار بھی شامل ہیں۔ اگرچہ ابھی تک پولیس نے مسلح شخص کے محرکات کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے لیکن حملہ آور کی طرف سے یرغمالیوں کو ایک سیاہ رنگ کا پرچم لہرانے پر مجبور کیا گیا ہے، جس سے ایسے خدشات ابھرے ہیں کہ یہ ایک ’جہادی حملہ‘ ہو سکتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس سیاہ پرچم پر مسلمانوں کا کلمہ درج ہے۔

Geiselnahme in Sydney, Australien

ایسے خدشات ابھرے ہیں کہ یہ ایک ’جہادی حملہ‘ ہو سکتا ہے

پولیس نے بتایا ہے کہ سڈنی کے اقتصادی مرکز میں واقع لنڈٹ چاکلیٹ کیفے میں بظاہر ایک ہی حملہ آور داخل ہوا ہے لیکن ایسے امکانات مسترد نہیں کیے جا سکتے ہیں کہ اس کے مزید ساتھی بھی اس کے ہمراہ ہوں۔

پیر کی صبح رونما ہونے والے اس حملے کے بعد فوری طور پر پیرا ملٹری اہلکاروں نے اس مقام کو چاروں اطراف سے بند کر دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پولیس نے حملہ آور سے رابطہ کر لیا ہے جبکہ اس کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں۔ دریں اثناء ماہر نشانہ باز اور خصوصی فورسز بھی قریبی مقامات پر تعینات کر دیے گئے ہیں جبکہ پولیس کے ہیلی کاپٹر بھی فضا میں پرواز کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے چینل سیون کے رپورٹر کرس ریسن کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس کیفے میں کم ازکم پندرہ یرغمالی موجود ہیں۔ چینل سیون کا دفتر اس کیفے کے بالکل سامنے واقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مارٹین پیلس میں واقع اس دفتر سے دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور اس کیفے میں موجود افراد کو ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف جانے کے احکامات جاری کر رہا ہے۔

آسٹریلوی وزیر اعظم ٹونی ایبٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس حملے کے سیاسی محرکات ہو سکتے ہیں۔ یہ امر اہم کے کہ آسٹریلوی فوج نہ صرف افغانستان میں غیر ملکی افواج میں شامل رہ چکی ہے بلکہ کنرا حکومت شام و عراق میں اسلامک اسٹیٹ کے جہادیوں کو نشانہ بنانے کے حق میں بھی ہے۔ خفیہ اداروں نے کینبرا حکومت کو قبل ازیں خبردار کیا تھا کہ جنگجو آسٹریلیا میں حملے کر سکتے ہیں۔

نیو ساؤتھ ویلز کے شہر سڈنی میں واقع جس کیفے پر حملہ کیا گیا ہے، وہاں قریب ہی نہ صرف ریزرَو بینک آف آسٹریلیا کا دفتر قائم ہے بلکہ ساتھ ہی متعدد بینکوں کے دفاتر اور ریاستی پارلیمنٹ کی عمارت بھی واقع ہے۔ اس حملے کے بعد کیفے کے قریب ہی واقع امریکی قونصلیٹ خانے کو بھی خالی کرا لیا گیا ہے۔

دوسری طرف آسٹریلیا کے مسلمان رہنماؤں نے متعدد افراد کو یرغمال بنانے کے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ مفتی اعظم پروفیسر ابراہیم ابو محمد نے ایک بیان میں یرغمالیوں اور ان کے خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مفتی اعظم اور آسٹریلین نیشنل امام کونسل اس مجرمانہ کارروائی کی کڑے الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلام میں ایسی کارروائیوں کی ملامت کی گئی ہے۔