’سپر سواری‘ کراچی کے بعد لاہور اور اسلام آباد میں | معاشرہ | DW | 18.05.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’سپر سواری‘ کراچی کے بعد لاہور اور اسلام آباد میں

رنگین نقش و نگار، کاغذ سے بنے پھول اور موتیوں کی لڑیوں سے سجی بسیں کراچی کی سڑکوں پر دوڑتی نظر آنا عام سی بات ہے۔ لیکن ایسی ہی ایک بس اپنی جیسی ہزاروں دیگر بسوں سے بالکل مختلف ہے اور یہ ہے سپر سواری ایکسپریس۔

کراچی کی روایتی بسوں کی طرح سجی سجائی اس بس میں نہ تو دن بھر کے تھکے ہارے مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوتی ہے، نہ ہی اس میں دروازہ پیٹ پیٹ کر سواریوں کو اسٹاپ کے بارے میں مطلع کرنے والا کنڈیکٹر موجود ہوتا ہے اور نا ہی یہ بس ہر اسٹاپ پر مسافروں کو اتارتی اور چڑھاتی ہے۔ بلکہ یہ بس اپنے مسافروں کو شہر کے اُن ورثوں کی سیر کراتی ہے، جن سے وہ اب تک بے خبر تھے۔ ان میں سے بعض عمارتیں اور مقامات نا صرف طرز تعمیر کا خوبصورت نمونہ ہیں بلکہ تاریخی اور مذہبی حیثیت لیے ہوئے ہیں۔

کراچی میں اپنی نوعیت کی یہ اّولین سروس یعنی سپر سواری ایکسپریس، عاطف بن عارف اور بلال حسن نامی دو نوجوانوں کی کاوش ہے۔ ایک ایسے شہر میں جہاں امن و امان کی صورتحال کسی بھی وقت پلٹ جاتی ہے اور جہاں مسائل کے انبار چاروں طرف نظر آتے ہیں، اس شہر کا چُھپا خوبصورت چہرہ دنیا کے سامنے لانے کے لیے پُر عزم نوجوان عاطف بن عارف نے ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی شہر کی محبت کے باعث سپر سواری ایکسپریس کا سفر شروع ہوا، ’’اس کو شروع کرنے کا مقصد یہ تھا کہ جو ہمارے شہر کی کہانیاں ہیں، لوگ ہیں عمارتیں ہیں، یہاں جو مذاہب ہیں، مختلف کلچر ہیں اور جو یہاں جداگانہ رنگ پائے جاتے ہیں ان سے اپنے لوگوں کو آگاہ کیا جائے اور ان میں شہر کے لیے اپنائیت اور فخر کے احساس کو اجاگر کیا جائے۔ اسی مقصد کے تحت ہم نے اب سے تقریباً تیرہ ماہ قبل سپر سواری ایکسپریس کا آغاز کیا۔‘‘

سیاحت کے شعبے میں تجربہ رکھنے والے عاطف کے مطابق ان کی سپر سواری سیاحوں کو مختلف علاقوں میں شہر کے ورثے دکھاتی ہے تاہم اس کے روٹس اور مقامات پہلے سے نہیں بتائے جاتے تاکہ مسافروں کا تجسس برقرار رہے، ’’ہم اپنے دورے میں ثقافت، مذہب، آرکیٹیکچر، ورثے اور تاریخ اور روایتی کھانوں کے علاوہ ایسی جگہوں کا انتخاب کرتے ہیں جو شہر کے جداگانہ مزاج کی خوبصورتی کو اجاگر کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میوزیم میں بھی لے جاتے ہیں، چرچ، مساجد اور مندر بھی جاتے ہیں تو کبھی کسی تاریخی اہمیت کی عمارتوں کے باہر ہوتے ہیں۔ اسی طرح پرانی بازاروں کا دورہ بھی کراتے ہیں۔‘‘

اس سفر کے دوران شہر کے ان تمام مقامات کی تاریخ اور اہمیت سے اچھی طرح آشنا تعلیم یافتہ نوجوان ٹور گائڈز مسافروں کو تمام ضروری معلومات سے اگاہ کرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں جب عام بسیں بعض اوقات شہر میں لوٹ مار کا شکار ہو جاتی ہیں اور نہ ہی حالات کا بھروسہ ہے تو لوگوں کو کس طرح سے آمادہ کیا گیا کہ وہ بس میں سفر کرتے ہوئے شہر کی سیر کے لیے نکلیں؟ اس کے جواب میں عاطف کہتے ہیں، ’’ہم نے اپنی جانب سے سکیورٹی کا انتظام کر رکھا ہے۔

حالات کب رخ بدل لیتے ہیں یہ تو کوئی نہیں جانتا لیکن اس کے باوجود لوگ کراچی کی خوبصورتی کو دیکھنے اور کھوجنے نکلتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک ہزاروں لوگ اس سواری سے لطف اندوز ہو چکے ہیں اور سپر سواری ایکسپریس کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں نے بکنگ بھی کروا رکھی ہے۔‘‘

عاطف کے مطابق ان کی اس کاوش کو اب تک بے حد پزیرائی ملی ہے جسے دیکھتے ہوئے سپر سواری ایکسپریس، لاہور اور اسلام آباد میں بھی شروع کی جا چکی ہیں۔ جبکہ صرف بس ہی نہیں بلکہ ٹانگہ اور چنگ چی رکشے بھی اس سپر سواری کا حصہ بن گئے ہیں جن پر چند گھنٹوں میں شہر کی سیاحت سے لطف انداز ہو سکتے ہیں۔ سپر سواری کے مینیجینگ ڈائریکٹر عاطف بن عارف کے مطابق سپر سواری سے صرف کراچی، لاہور یا اسلام آباد کے شہری ہی لطف اندوز نہیں ہوتے بلکہ بیرون ممالک سے آنے والے سیاح بھی اپنی نوعیت کی اس پہلی سروس سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔

اشتہار