سو اور دو سو یورو کے نئے نوٹ | حالات حاضرہ | DW | 29.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سو اور دو سو یورو کے نئے نوٹ

یورپی مرکزی بینک کی جانب سے سو اور دو سو یورو کے نئے کرنسی نوٹوں کا اجراء کیا جا رہا ہے۔ ان نوٹوں کی نقل تیار کرنا، کئی اعتبار سے بے حد مشکل بنا دیا گیا ہے۔

یورپی مرکزی بینک ایک طویل عرصے سے کاغذی کرنسی کی تجدید کے منصوبے پر کام کر رہا تھا،  اب سو اور دو سو یورو نوٹوں کے نئے ڈیزائنوں کی تکمیل کے بعد اجراء کیا جا رہا ہے۔

سو اور دو سو یورو کے نئے نوٹ منگل کے روز سے عوامی سطح پر استعمال کے لیے دستیاب ہیں۔ یورپی مرکزی بینک کے مطابق اب یورو کرنسی کی جعل سازی کا عمل مشکل تر بنا دیا گیا ہے۔

ایک مرغی کی قیمت ڈیڑھ کروڑ

کیا بھارتی کرنسی چین میں چھپتی ہے؟

ان نئے نوٹوں میں عدد جلی حروف میں چھاپا گیا ہے اور سیٹیلائٹ ہولوگرام بھی موجود ہے، جب کہ گزشتہ کرنسی نوٹوں کے مقابلے میں ان نئے نوٹوں میں رنگوں کا امتزاج بھی نہایت واضح ہے۔ گزشتہ نوٹ سن 2002ء میں متعارف کروائے تھے تھے۔

یورپی مرکزی بینک کے ڈائریکٹر ون روز نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات چیت میں کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ نہایت جدید سکیورٹی فیچرز کے ساتھ نوٹ تیار کیے جائیں، کیوں کہ اس طرح ان کی جعل سازی کا عمل روکا جا سکتا ہے۔‘‘

سو اور دو سو یورو کے ان نوٹوں کے اجرا سے قبل مرکزی بینک پانچ، دس، بیس اور پچاس کے نوٹ پہلے ہی تبدیل کر چکا ہے۔ پرانے نوٹ اب بھی قابلِ استعمال ہیں، تاہم رفتہ رفتہ وہ نوٹ مارکیٹ سے اٹھائے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ نئے نوٹ لے رہے ہیں۔

یورپ میں پچاس یورو کا نوٹ خاصا مقبول ہے تاہم سو یورو کا نوٹ بھی خاصا استعمال ہوتا ہے۔

یورپی مرکزی بینک کی جانب سے نئے نوٹ متعارف کروانے کی وجہ جعل سازی کا انسداد تھا۔ بینک نے اسی لیے پانچ سو یورو کے نوٹ کے خاتمے کا اقدام کیا ہے۔ اس کی وجہ مالیاتی دہشت گردی کا انسداد تھا کیوں کہ بلیک مارکیٹ میں لین دین کے لیے اسے استعمال کیا جاتا تھا۔

ع ت، ع ح (روئٹرز)

DW.COM