سویڈن: معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے والے مہاجر | معاشرہ | DW | 10.04.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

سویڈن: معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے والے مہاجر

بطور مہاجر آ کر سویڈن میں آباد ہونے والے افراد اب چاہتے ہیں کہ سویڈش سیاست دان اس معاشرے کے لیے ان کے کردار کو بھی مد نظر رکھیں۔

بطور مہاجر سویڈن آنے والے افراد ''آئی ایم 2015 ‘‘ کا سلوگن استعمال کر کے اب اپنی کہانیاں بیان کر رہے ہیں کہ وہ کس طرح سویڈشن معاشرے کا حصہ بن گئے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ سویڈش سیاستدان ان کی مثالوں کو مدنظر رکھیں کہ وہ نہ صرف بس ڈرائیور، نرسز اور آرٹسٹ بن کر اس معاشرے میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ ٹیکس دہندہ کے طور پر سویڈش معیشت میں بھی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

- نبیلہ اور ان کا خاندان شامی خانہ جنگی سے بچنے کے لیے 2015ء ہجرت کر کے سویڈن آیا تھا۔ آج وہ سویڈن کے ایک جنوبی شہر رونابیوئی میں بس ڈرائیور ہیں۔

- دعا بھی شام سے 2015ء میں ہجرت کر کے سویڈن آئی تھیں۔ اب وہ آرلوو میں فارماسسٹ ہیں۔

- محمد 2014ء میں سویڈن بطور مہاجر پہنچے تھے۔ آج وہ کرسٹیان اشٹاٹ میں نرس ہیں اور مترجم کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے ہیں۔

- حیا بھی 2014ء میں سویڈن پہنچیں۔ وہ اسٹاک ہوم میں فن تعمیرات کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

- غسان 2014ء میں شام سے جان بچا کر سویڈن پہنچے۔ اب وہ جان کوپنگ ایئرپورٹ پر کام کرتے ہیں۔ ان کی اہلیہ یہاں استاد ہیں۔ ان کا بیٹا ڈاکٹر بن رہا ہے جبکہ ان کی دو بیٹیاں اسکول جاتی ہیں۔ یہ سب سویڈش زبان بہت اچھی طرح بولتے اور سمجھتے ہیں۔

آتوسا فراہمند بھی 2015ء میں سویڈن پہنچی تھیں جب ایک ملین کے قریب لوگوں نے یورپ میں پناہ حاصل کی تھی۔ سویڈش حکام ان کی سیاسی پناہ کی درخواست پر غور کر رہے تھے تاہم انہیں وہاں اگلے برس رہائش ملنے سے قبل ہی ملازمت مل چکی تھی۔

Screenshot der Facebook Kampagne Jag är 2015 (ich bin 2015) - Nabila

نبیلہ اور ان کا خاندان شامی خانہ جنگی سے بچنے کے لیے 2015ء ہجرت کر کے سویڈن آیا تھا۔ آج وہ سویڈن کے ایک جنوبی شہر رونابیوئی میں بس ڈرائیور ہیں۔

لہٰذا رواں برس مارچ کے آغاز میں جب سویڈن کی دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی لبرل جماعت 'مارڈریٹ پارٹی‘ نے فیس بُک پر اپنے سربراہ اُلف کرسٹیرشون کی ایک تصویر شائع کی جس میں انہوں نے شکاری لباس پہن رکھا ہے۔ اس تصویر پر لکھا ہے ''سرحدوں کو مضبوط کریں۔ 2015ء کا بحران دوبارہ نہیں دہرایا جانا چاہیے۔‘‘ یہ تصویر فراہمند کو ناگوار گزری۔

''میں نے سوچا: وہ  2015ء کی تصویر کشی کس طرح کر رہے ہیں؟‘‘ فراہمند کہتی ہیں۔ ''اور لوگوں کو بتا رہے ہیں سویڈن میں 2015ء کی طرح دوبارہ کبھی نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

انہوں نے بھی فیس بُک پر اُلف کرسٹیرشون کے ہی طرح پوز بنا کر اپنی ایک تصویر شائع کی جس میں وہ براہ راست کیمرے میں دیکھ رہی ہیں۔ اس تصویر پر لکھا ''میں ہوں 2015‘‘۔ انہوں نے کرسٹیرشون کو مخاطب کرتے ہوئے اپنی کہانی بیان کی کہ وہ ٹیکس ادا کرتی ہیں، قانون کی عزت کرتی ہیں اور انہوں نے سویڈش زبان سیکھی ہے اور روانی سے بولتی ہیں۔

سویڈش زبان میں انہوں نے مزید لکھا، ''ہمیں اس بارے میں آگاہی بڑھانی چاہیے کہ مہاجر اس ملک کے لیے کس قدر فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہمیں ان تمام سیاستدانوں کو سننا چاہیے جو ہماری پیٹھ پیچھے باتیں کرتے رہے ہیں۔ ہم سب انسان ہیں اور وہ لوگ جو اس وقت ترکی اور یونان کی سرحد پر کھڑے ہیں وہ بھی بالکل میری اور آپ کی طرح ہیں۔‘‘

کرسٹیرشون کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے لکھا، ''آپ کہتے ہیں کہ 2015ء دوبارہ کبھی نہیں ہونا چاہیے۔ میں یہ کہنا چاہوں گی کہ میں 2015ء کا حصہ بہت سے دیگر لوگوں کی طرح، اور ہم اس ملک کا حصہ ہیں بھلے آپ اسے پسند کریں یا نہیں۔‘‘

انہوں نے اپنی اس پوسٹ میں دیگر لوگوں کو بھی اپنی کہانیاں اسی طرح بیان کرنے پر مائل کیا۔ چند گھنٹوں کے اندر ہی ان کی یہ پوسٹ وائرل ہو گئی۔

اب ایک ماہ کے عرصے میں ہی ان کے پاس 1500 ایسی کہانیاں جمع ہو گئی ہیں جو 2015ء میں ہی سویڈن پہنچنے والے مہاجرین کی ہیں۔ ان میں شام کے علاوہ افغانستان، صومالیہ اور دیگر کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں اور جو اب سویڈش معاشرے میں ضم ہو چکے ہیں اور اس کی بہتری کے لیے کوشاں ہیں۔

ا ب ا / ع ا (نینسی ایسنسن)