سویڈش شہر مالمو، یورپی بغداد | حالات حاضرہ | DW | 22.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سویڈش شہر مالمو، یورپی بغداد

براعظم یورپ کے شہر مالمو میں گولیاں چلنا اور بم دھماکے معمول کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ مالمو کے شہریوں کو روزانہ کی بنیاد پر پرتشدد جرائم پر مبنی واقعات کا سامنا ہے۔

سویڈش شہر مالمو میں رواں برس کے دوران اب تک انتیس بم دھماکے رپورٹ کیے گئے ہیں۔ تقریباً سوا تین لاکھ  کی آبادی والے اس شہر میں اکتوبر کے اختتام تک فائرنگ کے پچاس واقعات بھی ہو چکے ہیں۔ سویڈن ایک ایسا ملک ہے جہاں قانونی طور پر بندوق کا حصول بہت ہی مشکل خیال کیا جاتا ہے۔

مالمو سویڈن کا تیسرا بڑا شہر ہے اور ایک علمی شہر ہونے کی شہرت بھی رکھتا ہے۔ مالمو شہر کی شہرت بحری جہاز سازی رہی ہے۔ اس شہر میں بڑی تبدیلی اُورسند پل کی تعمیر ہے، اس پل نے ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن سے مالمو کا رابطہ استوار کیا ہے۔ یہ شہر جوئے کھیلنے کا بھی ایک بڑا مرکز بن چکا ہے۔ مالمو کا ہر تیسرا شہر تارکین وطن پس منظر کا حامل ہے۔

Schweden Explosion in Malmö (Getty Images/AFP/TT News Agency/J. Nilsson)

سویڈش شہر مالمو میں رواں برس کے دوران اب تک انتیس بم دھماکے رپورٹ کیے گئے ہیں

مالمو میں منشیات فروشوں کے مختلف گروپس سرگرم ہیں۔ رواں ہفتے کے دوران ایک گینگ نے شہر کے وسطی حصے میں واقع روزمرہ اشیا کی ایک دوکان کے مالک کو مجبور کرنے کی کوشش کی کہ وہ منشیات کی ایک کھیپ کو دوکان میں چھپائے۔ یہ معاملہ الجھتا گیا اور پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔ مقامی پولیس بھی شہر میں پرتشدد واقعات کو منشیات فروشوں کے گروپوں کی کاروباری چپقلش سے نتھی کرتی ہے۔

 ابھی چند روز قبل نو نومبر کو ایک پیزا شاپ کے باہر دو طرفہ فائرنگ کا ایک واقعہ رونما ہوا۔ اس فائرنگ میں ایک پندرہ سالہ ٹین ایجر کسی جانب سے آنے والی گولی کا نشانہ بن کر ہلاک ہو گیا جبکہ ایک اور شخص زخمی ہو کر ہسپتال پہنچ گیا۔ حکومت نے اس صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے خصوصی ٹاسک فورس قائم کر دی ہے اور اس کی ذمہ داری ان منشیات فروشوں کے گروپوں کی مکمل سرکوبی ہے۔

Schweden Schießerei in Malmö (picture-alliance/dpa/TT News Agency/J. Nilsson)

مالمو کی پولیس نے پرتشدد حالات کا ذمہ دار منشیات فروشوں کو قرار دیا ہے

مالمو میں ہونے والی فائرنگ میں عموماً منشات فروشوں کے کارکن ہلاک ہو رہے ہیں لیکن ان چلنے والی گولیوں کی لپیٹ میں راہ گیر بھی آتے رہتے ہیں۔ انہی راہ گیروں میں اکتیس برس کی ڈاکٹر کیرولین حکیم بھی شامل ہیں۔ انہیں اُس وقت گولی لگی جب وہ اپنا بچہ اپنی بانہوں میں اٹھائے ہوئے تھیں۔

اس صورت حال پر عام لوگوں کو شدید تشویش لاحق ہے۔ ٹاسک فورس کے قیام پر بعض تجزیہ کاروں نے اطمینان کا سانس لیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ شہر والوں اور قریبی بستیوں کے لیے یہ ایک مثبت قدم ہے۔ اس کے علاوہ منشیات فروش اسمگلروں کے نام یہ ایک زوردار پیغام بھی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ عملی اقدامات سے مالمو میں عام لوگ آرام و سکون کی زندگی دوبارہ بسر کر سکیں گے۔

مالمو میں سن 2017 کے بعد سے پرتشدد واقعات میں کمی دیکھی گئی ہے۔ سن 2017 میں اٹھاون بم دھماکے اور فائرنگ کے  اکیاسی واقعات ہوئے تھے۔ مقامی انتظامیہ کو ابھی بھی شہر کے حالات تبدیل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

نینسی ازینسن (عابد حسین)

DW.COM